وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ بلاک چین اور ٹوکنائزیشن جیسے نئے مالیاتی ذرائع کو حقیقی معاشی ضروریات کے حل سے منسلک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل کوآپریشن ڈے 2026 کے ایک سیشن سے افتتاحی خطاب میں کہی۔

سیشن کا موضوع بلاک چین، ٹوکنائزڈ مستقبل، ریاستی پالیسی انتخاب اور اگلی نسل کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے تحفظات تھا۔ وزیر خزانہ کے مطابق ٹوکنائزیشن کی افادیت اسی وقت نمایاں ہوگی جب اس کے ذریعے ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے فنانسنگ بہتر بنانے، سرکاری قرض سے متعلق نئے طریقوں اور مالیاتی خدمات تک وسیع رسائی جیسے عملی مسائل حل کیے جائیں۔

محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی اختراع کی حمایت کرتے ہوئے اس کے ساتھ مضبوط ریاستی حفاظتی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں جدت کے ساتھ شمولیتی انفراسٹرکچر، نگرانی اور ایسے قواعد ضروری ہیں جو صارفین اور مالیاتی نظام کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ انہوں نے بین الاقوامی تعاون کو بھی اہم قرار دیا تاکہ مختلف ملکوں میں ابھرنے والے ڈیجیٹل اثاثوں کے قواعد ایک دوسرے سے مکمل طور پر منقطع نہ ہوں۔

وزیر خزانہ نے خاص طور پر کہا کہ عالمی معیارات کی تشکیل میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے ممالک کی ضروریات ترقی یافتہ مالیاتی منڈیوں سے مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے ضابطہ سازی میں ان کے معاشی ڈھانچے، مالیاتی شمولیت اور سرحد پار ادائیگیوں کے مسائل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

یہ بیان پاکستان میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں سے متعلق پالیسی کو باضابطہ ضابطہ کاری کے دائرے میں لانے کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اجلاس میں کسی مخصوص نئی کرپٹو کرنسی، لائسنس یا سرمایہ کاری اسکیم کے اجرا کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے وزیر خزانہ کے ریمارکس کو پالیسی سمت اور ریگولیٹری فریم ورک کی پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی خاص ورچوئل اثاثے کی سرکاری ضمانت یا سرمایہ کاری کی توثیق کے طور پر۔