اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں پاکستانی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں اور ان کے لاجسٹک معاون مراکز کے خلاف ہوتی ہیں اور ان میں ضرورت، امتیاز اور احتیاط کے اصول ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔

یہ ردعمل افغان وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا کہ 2021 کے اواخر سے افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ پاکستان نے اس تعداد اور الزام کی توثیق نہیں کی اور کہا کہ گمراہ کن بیانیہ افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس سے لاحق خطرے کو چھپا نہیں سکتا۔

دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان سے منسلک گروہوں کی موجودگی پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں 2026 کے دوران پاکستان میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ ان دعوؤں کو پاکستان کا سرکاری مؤقف سمجھا جانا چاہیے؛ افغان طالبان ماضی میں پاکستانی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ کسی ذمہ دار ریاست سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں کے سامنے غیر فعال رہے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدامات کو حقِ دفاع، ضرورت اور آخری چارہ ہونے کے اصولوں کے تحت انجام دینے کا مؤقف اختیار کیا ہے، اور کارروائیوں کا دائرہ خطرے کی نوعیت کے تناسب سے رکھا گیا۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان انتظامیہ کو اس ذمہ داری کے حوالے سے جواب دہ بنایا جائے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی اور جوابی کارروائیوں کے الزامات کے باعث شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔