اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے پیر کو جاری ردعمل میں کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے اور اس کی کارروائیوں کا ہدف دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں نے پاکستان کے لیے سنگین سلامتی کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ پاکستانی مؤقف ہے کہ کابل میں حکام کو اپنی سرزمین ایسے گروہوں کے استعمال سے روکنی چاہیے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی یا کارروائی کرتے ہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کسی ذمہ دار ریاست سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں کے باوجود غیر فعال رہے۔
پاکستانی حکام نے افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں سے متعلق دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا۔ چونکہ یہ دعوے فریقین کے درمیان متنازع ہیں، اس لیے انہیں تصدیق شدہ نتیجے کے بجائے افغان طالبان کے الزام اور پاکستان کی تردید کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ردعمل متناسب ہے اور دہشت گردی سے منسلک اہداف تک محدود رکھا جاتا ہے۔
یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستانی حکومت نے کہا تھا کہ افغانستان سے پاکستانی فضائی حدود میں ڈرون داخل ہونے کے بعد اس نے افغانستان میں مخصوص مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائیاں کی تھیں۔ پاکستان نے ان کارروائیوں کو سرحد پار خطرات کے جواب میں انسداد دہشت گردی اقدام قرار دیا تھا۔
اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود عبوری حکومت اپنی بین الاقوامی اور دوطرفہ ذمہ داریوں کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ تازہ بیان میں بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے اور افغان طالبان کی ذمہ داریوں پر توجہ دے۔ دوسری جانب کسی بھی شہری نقصان سے متعلق آزادانہ تصدیق اور مکمل تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے تاکہ متضاد دعوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
