گوادر: پاکستان اور ایران کے درمیان ضلع گوادر میں واقع گبد رمدان سرحدی گزرگاہ کو تقریباً ایک ہفتے کی بندش کے بعد تجارتی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سرحدی تجارت سے متعلق ذرائع کے مطابق گیٹ کھلنے کے بعد دونوں جانب رکی ہوئی مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت بحال ہوئی، جن میں مائع پٹرولیم گیس اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے ٹرک شامل تھے۔
گبد رمدان کراسنگ بلوچستان کے ساحلی خطے کو ایران سے ملانے والی اہم زمینی تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ بندش کے دوران سرحد کے دونوں طرف متعدد تجارتی گاڑیاں رک گئی تھیں، جس سے درآمدی سامان کی ترسیل اور مقامی کاروباری سرگرمی متاثر ہوئی۔ گزرگاہ کھلنے کے بعد حکام نے دستاویزی اور سکیورٹی مراحل مکمل کرنے والی گاڑیوں کو مرحلہ وار گزرنے کی اجازت دی۔
پاکستان اور ایران کے سرحدی اضلاع میں قانونی تجارت مقامی روزگار، اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے اہم ہے۔ خصوصاً بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں زمینی راستوں کی بندش کا اثر تاجروں، ڈرائیوروں اور درآمدی سپلائی چین پر فوری پڑ سکتا ہے۔ ایل پی جی سمیت توانائی سے متعلق سامان کی نقل و حرکت بھی ان راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے طویل تعطل مقامی منڈیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
تازہ پیش رفت تجارتی آمدورفت کی بحالی ہے، اسے پاکستان ایران سرحد کے تمام راستوں پر کسی وسیع پالیسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مختلف کراسنگ پوائنٹس پر آمدورفت مقامی سکیورٹی، کسٹمز اور انتظامی فیصلوں کے تابع رہتی ہے۔ گبد رمدان پر معمول کی تجارت کتنی تیزی سے مکمل طور پر بحال ہوتی ہے، اس کا انحصار رکی ہوئی گاڑیوں کی کلیئرنس اور آئندہ سرحدی انتظامات پر ہوگا۔

