پاکستان نے ایران کے ساتھ گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ کو تقریباً ایک ہفتے کی بندش کے بعد تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ یہ پیش رفت بلوچستان کے ضلع گوادر میں واقع اس اہم تجارتی راستے پر رکی ہوئی درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کی بحالی کی جانب قدم ہے، جہاں ایل پی جی اور خوراک سمیت مختلف اشیا لے جانے والی گاڑیاں بندش کے باعث متاثر ہوئی تھیں۔
ڈان کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق سرحدی حکام نے ہفتے کی صبح تجارتی کھیپوں کی کلیئرنس شروع کی۔ ابتدائی مرحلے میں ان کھیپوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی جن کے کنسائنمنٹ نوٹ 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کے تھے۔ گبد-ریمدان کراسنگ کو مقامی طور پر گیٹ 250 بھی کہا جاتا ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے 17 اکتوبر کو گبد-ریمدان اور تفتان کے راستوں پر تجارت معطل کیے جانے کے بعد متعدد گاڑیاں اور تجارتی سامان رک گیا تھا۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے سرحد کھولے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ درآمدی و برآمدی سامان لے جانے والی گاڑیوں کی دونوں سمتوں میں نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق اس راستے کی بحالی خاص طور پر ایل پی جی کی رسد کے لیے اہم ہے کیونکہ ایران سے آنے والی توانائی مصنوعات بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں کی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
سرحدی تجارت کی معطلی نے ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور ان کاروباروں کو متاثر کیا جو ایرانی مصنوعات یا پاکستان سے برآمد ہونے والی اشیا کی زمینی ترسیل پر انحصار کرتے ہیں۔ گزرگاہ دوبارہ کھلنے سے رکی ہوئی کھیپوں کی مرحلہ وار کلیئرنس اور سپلائی چین پر پڑنے والے دباؤ میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم تجارتی بہاؤ مکمل طور پر معمول پر آنے کا انحصار کلیئرنس کے طریقہ کار اور باقی زیر التوا گاڑیوں کی روانگی پر ہوگا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان سے ملحق زمینی راستے سرحدی علاقوں کی مقامی معیشت کے ساتھ قومی سطح پر توانائی اور خوراک کی رسد میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے گبد-ریمدان کی بندش اور بحالی دونوں کے اثرات سرحدی اضلاع سے آگے محسوس کیے جاتے ہیں۔ حکام اور کاروباری نمائندوں کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق موجودہ اقدام کا فوری مقصد پہلے سے رکی ہوئی قانونی تجارتی کھیپوں کو آگے بڑھانا اور دوطرفہ تجارت کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔

