پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے مقابل مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ریاض نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیفس آف اسٹاف کے اجلاس کے نتائج کو سراہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔

سعودی وزارت دفاع سے منسوب بیان کے مطابق ملاقات میں حالیہ علاقائی سلامتی کی صورت حال اور مکہ مکرمہ کے ساتھ سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تعاون جاری رکھا جائے۔ ملاقات میں اس معاہدے میں شریک ممالک کے فوجی سربراہان کے حالیہ اجلاس کے نتائج کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔

ریاض میں ہونے والی ملاقات میں سعودی جانب سے وزیر مملکت و قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیر دفاع کے انٹیلی جنس امور کے مشیر ہشام بن عبدالعزیز بن سیف سمیت دیگر حکام کی شرکت رپورٹ ہوئی۔ پاکستانی وفد کے متعدد حکام بھی موجود تھے۔ اس سے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے سینئر فوجی حکام نے سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرات اور دفاعی تعاون پر مشاورت کی تھی۔

یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، بحری راستوں کی سلامتی اور توانائی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھے ہوئے ہیں۔ دستیاب سرکاری بیانات تعاون جاری رکھنے اور فوجی سطح کی مشاورت کی تصدیق کرتے ہیں، تاہم کسی نئی جنگی کارروائی، مخصوص آپریشنل منصوبے یا فوجی تعیناتی کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے ملاقات کو موجودہ دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی و عسکری رابطے اور مشترکہ تیاری کے اظہار کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی غیر اعلان شدہ کارروائی کے آغاز کے طور پر۔