پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والا نیا سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ مشترکہ تحفظ کا انتظام ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کی نوعیت ”خالصتاً دفاعی“ ہے اور وہ ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں جو اس کے اصول قبول کریں اور اختلافات کے پُرامن حل کے پابند ہوں۔
”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ 7 اگست کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ میں دستخط کیا۔ دستیاب مشترکہ اعلامیے کے مطابق کسی ایک رکن ریاست کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ عملی ردعمل کی شکل، مشاورت کا طریقہ اور فوجی ذمہ داریوں کی مکمل تفصیل عوامی سطح پر جاری متن میں محدود ہے۔
ڈار نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51، یعنی انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق، کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیا انتظام پہلے سے موجود دفاعی معاہدوں کی جگہ نہیں لیتا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں بھی باہمی دفاع کا معاہدہ کیا تھا جس میں ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت قرار دیا گیا تھا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے الگ بیان میں کہا کہ سہ فریقی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کو ہدف بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور بحیرۂ احمر کی سلامتی کے سوالات زیر بحث تھے۔ معاہدے کے ممکنہ اطلاق سے متعلق کسی بھی مثال کو فی الحال قیاس کے بجائے فریقین کے باضابطہ فیصلوں سے جانچا جائے گا۔
حکام کے مطابق خارجہ اور دفاع کے وزرا، فوجی قیادت اور متعلقہ اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطے کے ڈھانچے قائم کیے جائیں گے، جبکہ انتظامی سیکریٹریٹ سعودی عرب میں ہو گا۔ فیدان کے مطابق کسی رکن کو مدد کے لیے باضابطہ درخواست دینا ہو گی، اور خطرے کی نوعیت کے مطابق تعاون انٹیلی جنس اور رسد سے لے کر فوجی تعیناتی تک ہو سکتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ ادارہ جاتی رابطوں، درخواست کے طریقۂ کار اور مشترکہ منصوبہ بندی کے عملی قواعد کی وضاحت ہے۔ دستیاب وضاحت کے مطابق ردعمل محض معاہدے کے ذکر سے خودکار نہیں ہو گا بلکہ متعلقہ رکن کی درخواست، خطرے کی نوعیت اور فریقین کی مشاورت پر منحصر رہے گا۔ مکمل قواعد سامنے آنے پر ہی ہر ممکن بحران میں ذمہ داری کی حد واضح ہو گی۔

