نیویارک: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت کے لیے تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف کا اجلاس بلانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ بات چیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان شریک ہوئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق تینوں وزرا نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کی اور دفاعی معاہدے کے تحت عملی تعاون کے طریقہ کار پر غور کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی کہا کہ رکن ممالک نے تینوں ملکوں کے فوجی سربراہان کا فوری اجلاس بلانے کے انتظامات پر گفتگو کی۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن پر حملہ تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک وزارت دفاع نے بعد میں بتایا کہ ترکی کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ سعودی اور پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے مکہ اور سعودی عرب کی شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کی۔ انہوں نے علاقائی صورتحال، ریاستی خودمختاری، عدم مداخلت، بین الاقوامی قانون اور جہاز رانی کی آزادی پر بھی گفتگو کی اور کشیدگی میں کمی و تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں مکہ دفاعی اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اتحاد کا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا اور پاکستان کو ریاض میں قائم سیکریٹریٹ کی قیادت دی گئی۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا جا چکا ہے۔ یہ سفارتی اور دفاعی سرگرمیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے اور سعودی دفاعی نظام نے حالیہ دنوں میں متعدد میزائل حملے روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
