اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے صومالیہ میں یرغمالی کے ایک واقعے سے متاثر ہونے والے پاکستانی ملاحوں اور ان کے خاندانوں سے متعلق معاملات میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔ کمیٹی نے عملے کی رہائی، ایک جاں بحق ملاح کی میت وطن واپس لانے، زخمی افراد کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو بروقت مدد کیوں نہیں مل سکی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کس سطح پر ہوا۔ بحری شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی شہری طویل سمندری سفر اور بعض خطرناک بحری راستوں پر ملازمت کے باعث خصوصی تحفظ اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات کے محتاج ہوتے ہیں۔
کمیٹی نے حکام سے یہ بھی جاننا چاہا کہ یرغمال بنائے گئے عملے کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، زخمی ملاحوں کو کس نوعیت کی طبی سہولت فراہم کی گئی اور جاں بحق شخص کی میت کی واپسی میں کتنا وقت لگا۔ مالی امداد اور معاوضے کے معاملے میں بھی متعلقہ قواعد، کمپنی یا آجر کی ذمہ داری اور حکومتی اداروں کے کردار پر وضاحت مانگی گئی۔
سمندری ملازمین کے معاملات میں جہاز کی ملکیت، فلیگ اسٹیٹ، آجر، انشورنس اور ملاح کی شہریت سمیت کئی قانونی اور انتظامی پہلو شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی واقعے کے بعد معاوضے اور ذمہ داری کا تعین بعض اوقات مختلف اداروں کے درمیان رابطے کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم کمیٹی نے زور دیا کہ ان پیچیدگیوں کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
سینیٹ کمیٹی کی کارروائی خود کسی معاوضے کی حتمی ادائیگی یا ذمہ دار فریق کے خلاف فیصلہ نہیں ہے۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے تاخیر پر تشویش ظاہر کی اور حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ مزید سرکاری تفصیلات سے واضح ہوگا کہ متاثرہ ملاحوں اور خاندانوں کے لیے کتنی مالی امداد منظور یا ادا ہوئی، کون سے معاملات ابھی زیر التوا ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کے لیے بحری ملازمین کے تحفظ کا نظام کس طرح بہتر بنایا جائے گا۔
