اسلام آباد: پاکستان نے ستمبر کے دوران قطر سے دوسرا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو حاصل کرنے کی راہ ہموار کرلی ہے، جس کا جہاز آبنائے ہرمز عبور کرچکا ہے اور پاکستان کی ایل این جی درآمدی تنصیب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے کی کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
بزنس ریکارڈر نے بلومبرگ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارگو قطر کے راس لفان ٹرمینل سے جون کے آخر میں لوڈ کیا گیا تھا اور گزشتہ ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ رپورٹ میں معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے کہا گیا کہ محفوظ گزرگاہ کے لیے حکومتی سطح پر ایران کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔
دی نیوز کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ کارگو اہم بحری گزرگاہ سے کامیابی کے ساتھ گزر چکا ہے۔ یہ رواں ماہ پاکستان کو ملنے والا دوسرا قطری ایل این جی کارگو ہے۔ اس سے قبل 10 ستمبر کو ’المرونہ‘ نامی جہاز قطر کے راس لفان سے تقریباً 81,936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر پاکستان پہنچا تھا۔
پاکستان طویل مدتی معاہدوں کے تحت قطر سے ایل این جی حاصل کرتا ہے، جو ملکی بجلی اور گیس کے نظام کے لیے اہم ایندھن ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز اور وسیع تر خلیجی خطے میں کشیدگی نے شپنگ کے معمولات متاثر کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق جولائی میں ایک قطری ایل این جی کھیپ منسوخ بھی ہوئی تھی اور قطر کی جانب سے فورس میجر کی صورتحال نے پاکستان کی درآمدی منصوبہ بندی کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ کارگو آبنائے ہرمز سے نہ گزر پاتا تو پاکستان اضافی ایل این جی کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر غور کررہا تھا۔ اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند سطحوں تک پہنچنے کے باعث فوری خریداری طویل مدتی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی پڑ سکتی تھی۔ اسی لیے موجودہ کھیپ کی آمد توانائی سپلائی کے انتظام کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
یہ پیش رفت کسی وسیع توانائی بحران کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ہے۔ پاکستان کی گیس اور بجلی کی دستیابی کا انحصار آئندہ کارگوز، علاقائی شپنگ کی صورتحال، مقامی طلب، پاور سیکٹر کی ضروریات اور متبادل ایندھن کی دستیابی پر رہے گا۔ حکام کی جانب سے موجودہ کارگو کی کامیاب بحری گزرگاہ کی اطلاع مل چکی ہے، جبکہ حتمی ترسیل بندرگاہی اور آپریشنل مراحل کی تکمیل سے وابستہ ہے۔

