اسلام آباد: پاکستان نے ستمبر کے دوران قطر سے دوسرا مائع قدرتی گیس، یعنی ایل این جی، کارگو حاصل کر لیا ہے جس نے آبنائے ہرمز عبور کر لی ہے اور پورٹ قاسم پہنچنے کی توقع ہے۔ دی نیوز اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے کی کشیدگی کے باعث خلیجی سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ برقرار ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ تازہ کارگو کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ یہ ستمبر میں قطر سے پاکستان آنے والی دوسری ایل این جی کھیپ ہے۔ پہلی کھیپ 10 ستمبر کو جہاز ال مرونہ کے ذریعے پورٹ قاسم پہنچی تھی، جس میں قطر کے راس لفان ٹرمینل سے تقریباً 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لائی گئی تھی۔

دی نیوز کے مطابق تازہ کھیپ طویل مدتی سرکاری معاہدے کے تحت حاصل کی گئی ہے اور اس کی قیمت برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اضافی ایل این جی بجلی کے شعبے کو عارضی سہارا دے سکتی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں گیس کی دستیابی اور بجلی کی پیداوار کے مسائل کے باعث لوڈشیڈنگ کی شکایات موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 21 ستمبر کو گیس ٹرانسمیشن نظام میں لائن پیک 4,792 ایم ایم سی ایف ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بجلی کے شعبے کی گیس کھپت تقریباً 208 ایم ایم سی ایف یومیہ تھی۔ کھاد کے شعبے کی کھپت تقریباً 89 ایم ایم سی ایف یومیہ رہی۔ بعض مقامی گیس فیلڈز اور پلانٹس سے پیداوار میں تکنیکی یا آپریشنل وجوہ کی بنا پر کمی بھی رپورٹ کی گئی، تاہم حکام نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کے نیٹ ورک میں کسی ذریعے سے جبری کٹوتی نافذ نہیں کی گئی۔

بزنس ریکارڈر نے بلوم برگ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تازہ قطری کھیپ کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے حصول میں حکومتی سطح پر رابطے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز نے قطر کے راس لفان سے ایل این جی لوڈ کی اور سمندری راستے سے پاکستان کی جانب سفر جاری رکھا۔ پاکستان نے اس سے پہلے ممکنہ تاخیر کی صورت میں متبادل اور نسبتاً مہنگی اسپاٹ مارکیٹ خریداری کے آپشنز پر بھی غور کیا تھا۔

پاکستان اپنی ایل این جی ضروریات کا بڑا حصہ قطر کے طویل مدتی معاہدوں سے پورا کرتا ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر مقامی گیس فراہمی، بجلی کی پیداوار اور درآمدی توانائی کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔ تازہ کھیپ کی آمد اس دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی، تاہم موجودہ سپلائی حالات میں یہ ایک اہم اضافی فراہمی ہے۔