نیویارک: پاکستان کو COP31 کی صدارت کے نئے کلائمیٹ امپلیمنٹیشن برج، جسے BRIDGE کہا جا رہا ہے، کے ابتدائی پائلٹ ممالک میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اعلان نیویارک کلائمیٹ ویک کے دوران کیا گیا، جہاں ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، پاکستان اور ازبکستان کو پہلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا۔

اقدام کا مقصد ممالک کو موسمیاتی اہداف کو قابل عمل منصوبوں، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنے میں مدد دینا ہے۔ COP31 کی تیاریوں میں اس بار نفاذ پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے تاکہ قومی سطح پر طے شدہ موسمیاتی وعدوں اور زمینی منصوبوں کے درمیان موجود خلا کم کیا جا سکے۔ ترکی کے شہر انطالیہ میں نومبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس سے پہلے پائلٹ ممالک میں حاصل ہونے والے تجربات کو وسیع تر فریم ورک کے لیے استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، گلیشیئر پگھلنے، پانی کے دباؤ اور غیر معمولی بارشوں نے حالیہ برسوں میں معیشت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو بار بار متاثر کیا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی موسمیاتی مالیات، موافقتی منصوبوں اور نقصان و تلافی کے انتظامات پاکستان کی عالمی موسمیاتی سفارت کاری کے اہم موضوعات رہے ہیں۔

BRIDGE کے تحت پائلٹ ممالک کو منصوبہ بندی، مالی وسائل تک رسائی، سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی تیاری اور مختلف ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ہر ملک میں عملی سرگرمیوں کی نوعیت اس کی قومی ترجیحات، دستیاب منصوبوں اور ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی شمولیت سے حکومت کو اپنے موسمیاتی منصوبوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت سے جوڑنے کا ایک اضافی پلیٹ فارم مل سکتا ہے۔ اس پروگرام کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پائلٹ مرحلے میں کتنے منصوبے مالی اور انتظامی طور پر قابل عمل شکل اختیار کرتے ہیں اور COP31 کے بعد یہ معاونت کس پیمانے پر جاری رہتی ہے۔