اسلام آباد: پاکستان میں صارف قیمتوں کے اشاریے سے ماپی جانے والی سالانہ مہنگائی ستمبر 2026 میں 10.26 فیصد رہی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق ماہانہ بنیاد پر قومی CPI میں 1.27 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رواں مالی سال کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں اوسط مہنگائی 10.20 فیصد رہی۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 10.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 10.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ماہانہ بنیاد پر شہری CPI 1.31 فیصد اور دیہی CPI 1.23 فیصد بڑھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں قومی سالانہ مہنگائی 5.8 فیصد تھی، اس لیے موجودہ شرح اگرچہ گزشتہ ماہ سے کم ہے لیکن ایک سال پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند ہے۔

تفصیلی اعداد و شمار میں خوراک کی قیمتوں کی رفتار میں کمی اور توانائی و ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا مختلف اثر نظر آیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شہری خوراک کی سالانہ مہنگائی 12.1 فیصد سے کم ہو کر 8.1 فیصد اور دیہی خوراک کی مہنگائی 7.7 فیصد تک آ گئی، جبکہ توانائی سے متعلق قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔ شہری علاقوں میں توانائی گروپ کی سالانہ رفتار 11.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں 13.1 فیصد بتائی گئی۔

PBS کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر میں بجلی کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 33 فیصد زیادہ تھیں اور ماہانہ بنیاد پر بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت سالانہ بنیاد پر تقریباً 39 فیصد بلند بتائی گئی، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ خدمات کی لاگت پر بھی دباؤ رہا۔ بنیادی مہنگائی، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں ہوتے، شہری اور دیہی علاقوں میں بالترتیب تقریباً 8.6 اور 8.1 فیصد رہی۔

اشیائے خورونوش کے اندر رجحان یکساں نہیں تھا۔ پیاز اور گندم کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر زیادہ رہیں، جبکہ آلو، مرغی، انڈے اور چینی جیسی بعض اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی رپورٹ ہوئی۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ مجموعی CPI کی ایک شرح مختلف گھرانوں پر قیمتوں کے دباؤ کی پوری شدت یکساں طور پر ظاہر نہیں کرتی۔

PBS کی سرکاری ریلیز کے مطابق حساس قیمت اشاریہ (SPI) کی سالانہ شرح ستمبر میں 8.4 فیصد رہی، جبکہ ہول سیل پرائس انڈیکس (WPI) کی سالانہ مہنگائی 13.3 فیصد تک پہنچی۔ یہ اعداد و شمار ستمبر کے قومی قیمت رجحان کی سرکاری پیمائش ہیں اور آئندہ مہینوں کی شرح عالمی توانائی قیمتوں، مقامی ایندھن و بجلی نرخوں، خوراک کی رسد اور مالی و زرعی حالات سے متاثر ہو سکتی ہے۔