اسلام آباد: پاکستان میں صارف قیمتوں کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی ستمبر 2026 میں کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی، جبکہ ایک ماہ قبل اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مجموعی شرح میں کمی کے باوجود بجلی اور ایندھن سمیت توانائی سے متعلق اخراجات نے قیمتوں کے عمومی دباؤ کو بلند سطح پر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک کی بعض اشیا کی قیمتوں میں نسبتاً سست رفتار اضافے نے مجموعی مہنگائی کو نیچے لانے میں مدد دی، لیکن توانائی گروپ میں سال بہ سال اضافہ بدستور نمایاں رہا۔ اسی وجہ سے ستمبر کی شرح سرکاری منصوبہ بندی میں متوقع سطح سے کچھ زیادہ رہی۔ مہنگائی میں ماہانہ اور سالانہ تبدیلی کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک مہینے میں قیمتوں کی رفتار کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عمومی قیمتیں سابقہ سطح پر واپس آ گئی ہیں؛ یہ صرف قیمتوں کے اضافے کی رفتار میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

ستمبر کا ڈیٹا ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت معاشی استحکام کے بعد نمو، روزگار اور برآمدات میں اضافے پر زور دے رہی ہے۔ بلند توانائی لاگت گھرانوں کے بجٹ کے ساتھ صنعت، نقل و حمل اور کاروباری پیداواری لاگت کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے آنے والے مہینوں میں بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور خوراک کی قیمتوں کا رجحان مجموعی افراط زر کے لیے اہم رہے گا۔

ادارہ شماریات کا صارف قیمت اشاریہ ملک میں مہنگائی کی بنیادی سرکاری پیمائش ہے اور مختلف اشیا و خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کو ایک مجموعی اشاریے کی شکل دیتا ہے۔ تازہ اعدادوشمار پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور مالیاتی منڈیوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کہ شرح سود، حقیقی آمدن اور صارفین کی قوت خرید سے متعلق توقعات پر افراط زر کی رفتار براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ ستمبر میں سالانہ شرح کا 10.3 فیصد تک آنا اگست کے مقابلے میں کمی ہے، تاہم دو ہندسوں کی مہنگائی برقرار رہنے سے قیمتوں کا دباؤ ابھی ختم نہیں ہوا۔