پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور طے شدہ وعدوں پر مکمل عمل کرے۔ مشترکہ بیان میں فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی کی مخالفت کی گئی اور غزہ سے متعلق طے شدہ روڈ میپ کے مکمل نفاذ پر زور دیا گیا۔ یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے مستقبل پر بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا۔
مشترکہ موقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی محض عارضی تشدد میں کمی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ انسانی امداد کی رسائی، شہریوں کے تحفظ اور طے شدہ سیاسی اقدامات پر بھی عمل ہونا چاہیے۔ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے منتقل کرنے یا مستقل بے دخلی کی کسی کوشش کو مسترد کیا گیا اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہری آبادی کے حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا گیا۔
پاکستان طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تازہ مشترکہ بیان میں بھی مسئلے کے سیاسی حل، غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے اور جنگ بندی کے انتظامات کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ بیان کسی نئی فوجی کارروائی یا یکطرفہ پابندی کا اعلان نہیں بلکہ شریک ملکوں کا مشترکہ سفارتی موقف ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے وعدوں کے نفاذ پر اختلافات کے باعث بین الاقوامی سطح پر نگرانی اور سفارتی دباؤ کی اہمیت بڑھی ہے۔ مختلف فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، اس لیے ہر دعوے کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین معتبر آزاد یا سرکاری شواہد کی بنیاد پر ضروری ہے۔ مشترکہ بیان نے بنیادی طور پر معاہدہ شدہ ذمہ داریوں پر عمل اور شہری آبادی کے تحفظ کو مرکزی نکتہ بنایا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کا مسئلہ متعدد دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتوں میں زیر بحث ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک او آئی سی اور اقوام متحدہ کے فورمز پر قریبی رابطہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا دارومدار جنگ بندی کے زمینی نفاذ، امدادی رسائی، قیدیوں اور یرغمالیوں سے متعلق انتظامات اور سیاسی مذاکرات کے تسلسل پر ہوگا۔
