وفاقی حکومت نے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (Ownership and Management) پالیسی 2023 میں مالی رپورٹنگ سے متعلق ترمیم نوٹیفائی کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق فنانس ڈویژن نے 2 اکتوبر کو ترمیم جاری کی، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے 30 ستمبر 2026 کو اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (Governance and Operations) ایکٹ 2023 کے تحت منظور کیا تھا۔

ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہ ایس او ای ایکٹ کے مقصد کے لیے انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز سے مراد وہ مالیاتی رپورٹنگ معیارات ہوں گے جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان وقتاً فوقتاً کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 225 کے تحت نوٹیفائی کرتا ہے۔ اس سے کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ سرکاری اداروں کے لیے ایک عمومی حوالہ فریم ورک متعین ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیر نگرانی اداروں کے لیے الگ قانونی حیثیت برقرار رکھی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق جہاں اسٹیٹ بینک کے Banking Companies Ordinance 1962 کے تحت جاری کردہ قانونی مالیاتی رپورٹنگ تقاضے اور عمومی IFRS فریم ورک میں عدم مطابقت ہو، وہاں مرکزی بینک کے سرکلرز، ہدایات اور متعلقہ ضابطے مقدم رہیں گے۔ یہ شق اسٹیٹ بینک کے قانونی اختیارات کو برقرار رکھتی ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنیوں کے لیے عمومی طور پر دی گئی IFRS ترامیم یا استثنا اسی طرح ان سرکاری اداروں پر بھی لاگو ہوں گے جو کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں، بشرطیکہ ان پر اسٹیٹ بینک کی مخصوص قانونی نگرانی حاوی نہ ہو۔

فنانس ڈویژن کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ساتھ مشاورت سے قانونی طور پر قائم سرکاری اداروں کے لیے تفصیلی مالیاتی انتظامی فریم ورک تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ تمام ایس او ایز کو ایس او ای ایکٹ کی دفعات 19 اور 20 کے مطابق داخلی آڈٹ کے طریقہ کار اور نظام قائم کرنے ہوں گے۔

یہ ترمیم کسی سرکاری ادارے کی فوری نجکاری، مالی نتیجے یا بجٹ میں تبدیلی کا اعلان نہیں ہے؛ اس کا بنیادی مقصد رپورٹنگ، آڈٹ اور مالی انتظام کے ضابطہ کار کو واضح کرنا ہے۔ اس کے عملی اثرات متعلقہ اداروں کی قانونی نوعیت، ایس ای سی پی یا اسٹیٹ بینک کی نگرانی اور نئے مالیاتی فریم ورک کے نفاذ پر منحصر ہوں گے۔