پاکستان اگلے سال 3 سے 11 اپریل تک جنوبی ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید نے کی۔ پاکستان 2004 کے بعد پہلی بار اس علاقائی کھیلوں کے بڑے ایونٹ کی میزبانی کرے گا، یعنی دونوں مقابلوں کے درمیان 23 سال کا وقفہ ہوگا۔
اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اسلام آباد، لاہور اور پشاور کو میزبان شہر بنانے کی منظوری دی گئی۔ بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے نمائندے اجلاس میں براہِ راست شریک ہوئے، جبکہ بھارت نے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق تمام شریک نمائندوں نے مجوزہ تاریخوں کی تائید کی۔ ایک وفد اسلام آباد میں مجوزہ کھیلوں کے مقامات کا معائنہ بھی کرے گا تاکہ دستیاب سہولتوں اور تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
منصوبے کے مطابق کھیلوں میں 28 کھیل اور 346 میڈل ایونٹس شامل ہوں گے، جبکہ تینوں شہروں میں 3,200 سے زیادہ کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے۔ یہ تعداد اور ایونٹس کا خاکہ موجودہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے؛ حتمی شرکت فہرستیں، ہر ملک کے دستے اور مقابلوں کا تفصیلی شیڈول بعد میں جاری ہوں گے۔ میزبان شہروں میں مقامات کی تقسیم، ٹکٹنگ اور نشریاتی انتظامات سے متعلق تفصیل بھی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
وفاقی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ حکومت، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور وزارتِ خارجہ تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بھارت کے نمائندے کی تاریخوں سے اتفاق کو ممکنہ شرکت کا مثبت اشارہ قرار دیا گیا، تاہم ایک دوسرے ذریعے نے واضح کیا کہ بھارت کی عملی شرکت ابھی حتمی نہیں۔ اس لیے بھارتی دستے کی شرکت کو منظور شدہ یا یقینی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اردو ہیڈ لائنز نے ڈان کی براہِ راست رپورٹ سے میزبان ملک، تاریخوں، شہروں اور منصوبہ بند کھیلوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔ آئندہ مرحلے میں مقامات کے معائنے، حتمی کھیلوں کی فہرست، بین الاقوامی دستوں کی تصدیق اور انتظامی تیاریوں کی پیش رفت اہم ہوگی۔ ان میں کوئی مادی تبدیلی سامنے آنے پر خبر کو اسی مستحکم واقعہ شناخت کے تحت اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




