ناگویا: پاکستان کی مردوں کی اسکواش ٹیم ایشین گیمز کے فائنل میں ملائیشیا کے ہاتھوں 2-0 سے شکست کے بعد چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنے پر مجبور ہوگئی۔ ناگویا کنجو فوٹو ایرینا میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے میں ملائیشیا نے پہلے دو میچ جیت کر ٹائی اپنے نام کرلی، جس کے باعث تیسرے پاکستانی کھلاڑی محمد اشعب عرفان کو کورٹ میں اترنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 2010 کے گوانگژو ایشین گیمز میں اسی ملائیشین ٹیم کو 2-0 سے شکست دے کر مردوں کا ٹیم گولڈ جیتا تھا۔ سولہ برس بعد نتیجہ الٹ گیا۔ پاکستان گزشتہ ایشین گیمز میں بھی فائنل تک پہنچا تھا مگر ہانگژو میں بھارت سے شکست کے بعد چاندی کا تمغہ ملا تھا، اس طرح قومی ٹیم نے اس بار مسلسل دوسری مرتبہ رنرز اپ پوزیشن حاصل کی۔

فائنل کے پہلے میچ میں ناصر اقبال کا مقابلہ امیشن راج چندرن سے ہوا۔ ناصر نے پہلا گیم 11-8 سے جیت کر اچھی شروعات کی، مگر ملائیشین کھلاڑی نے اگلے تین گیمز 11-3، 11-6 اور 11-4 سے جیت کر میچ 3-1 سے اپنے نام کیا اور ملائیشیا کو ٹائی میں 1-0 کی برتری دلا دی۔

دوسرے میچ میں پاکستان کے نور زمان کے سامنے عالمی درجہ بندی میں 18ویں نمبر کے ایئن یوو نگ تھے، جنہوں نے انہی کھیلوں کے انفرادی سیمی فائنل میں بھی نور کو شکست دی تھی۔ پانچ گیمز تک جانے والے سخت مقابلے میں ملائیشین کھلاڑی نے پہلا گیم 11-8 سے جیتا، نور نے اگلے دو گیمز 11-6 اور 11-7 سے اپنے نام کرکے 2-1 کی برتری حاصل کی۔ تاہم نگ نے چوتھا گیم 11-4 سے جیت کر مقابلہ برابر کیا اور فیصلہ کن پانچواں گیم بھی 11-4 سے جیت لیا۔ اس فتح کے ساتھ ملائیشیا کی مجموعی برتری 2-0 ہوگئی اور گولڈ میڈل کا فیصلہ ہوگیا۔

پاکستانی اسکواش ٹیم میں ناصر اقبال، نور زمان، محمد اشعب عرفان اور عاصم خان شامل تھے۔ نور زمان اور اشعب عرفان انفرادی مقابلوں میں بھی کانسی کے تمغے حاصل کر چکے ہیں۔ ٹیم ایونٹ کی چاندی کے باوجود پاکستان کا ایشین گیمز میں مردوں کے اسکواش ٹیم گولڈ کا انتظار 2010 کے بعد برقرار ہے۔ موجودہ نتیجہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب بھی ایشیائی سطح کے اعلیٰ درجے کے مقابلوں میں میڈل کی دوڑ میں موجود ہے، مگر فائنل میں ملائیشیا نے دونوں فیصلہ کن میچ جیت کر برتری ثابت کی۔