اسلام آباد: پاکستان اسٹیل ملز نے پیداوار بند ہونے کے باوجود گزشتہ تین مالی سالوں میں مجموعی طور پر 79.3 ارب روپے کے نقصانات ریکارڈ کیے ہیں۔ وزارت صنعت کے سرکاری اعداد پر مبنی رپورٹس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ادارے کا خسارہ تقریباً 24 ارب روپے رہا، جبکہ بڑے اخراجات میں ماضی کے قرضوں پر سود، ملازمین کی تنخواہیں اور بنیادی یوٹیلیٹی و انتظامی اخراجات شامل رہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کی پیداواری سرگرمیاں جون 2015 سے بند ہیں۔ تاہم ادارہ بطور سرکاری کمپنی مختلف مالی ذمہ داریوں کے ساتھ قائم رہا، جس کے نتیجے میں نئی پیداوار یا فروخت نہ ہونے کے باوجود قرضوں اور جاری اخراجات کا بوجھ برقرار رہا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے مجموعی نقصان میں پرانے قرضوں پر سود ایک بڑا حصہ ہے اور تقریباً تین چوتھائی نقصان اسی مد سے منسوب کیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد بتاتے ہیں کہ تنخواہوں، ایندھن، بجلی، پانی، گیس اور دیگر انتظامی ضروریات پر بھی اخراجات جاری رہے۔ چونکہ مل فعال پیداوار نہیں کررہی، اس لیے ان اخراجات کے مقابل کوئی معمول کی صنعتی آمدنی موجود نہیں۔ یہ صورتحال سرکاری ملکیتی اداروں کے مالی بوجھ اور بند اثاثوں کے انتظام سے متعلق پالیسی بحث کو دوبارہ نمایاں کرتی ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز طویل عرصے سے نجکاری، بحالی، شراکت داری یا متبادل استعمال کے مختلف منصوبوں کا موضوع رہی ہے۔ مختلف حکومتوں نے ادارے کے مستقبل کے لیے تجاویز پر کام کیا، مگر کئی منصوبے حتمی عملی مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔ موجودہ نقصان کے اعداد اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ فیصلہ مؤخر ہونے کی صورت میں قرضوں اور لازمی اخراجات کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔

یہ بھی اہم ہے کہ 79.3 ارب روپے کی رقم تین مالی سالوں کے حسابی نقصانات کی مجموعی قدر ہے، اسے نئی نقد ادائیگی یا ایک ہی سال کے مالی بوجھ کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس میں سود اور دیگر اکاؤنٹنگ اخراجات شامل ہیں۔ ادارے کی مکمل مالی حالت جاننے کے لیے واجبات، اثاثوں کی مالیت، سرکاری گارنٹیز اور دیگر ذمہ داریوں کو بھی الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کبھی ملک کی بڑی سرکاری صنعتی تنصیبات میں شمار ہوتی تھی اور اس کا مقصد مقامی فولاد کی پیداوار کے ذریعے درآمدی ضرورت کم کرنا تھا۔ اب اس کے مستقبل کے بارے میں حکومتی فیصلہ مالیاتی، صنعتی اور روزگار سے متعلق اثرات رکھتا ہے۔ تازہ اعداد کے بعد وزارت صنعت اور متعلقہ حکام پر اس بند اثاثے کے طویل مدتی حل کے لیے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، تاہم کسی نئے حتمی فیصلے کا اعلان اس رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔