لاہور: وفاقی حکومت نے دو لاکھ ٹن سرپلس چینی کی برآمد کے لیے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے برآمدِ سرپلس چینی کے اجلاس میں برآمدی عمل کی تفصیلات طے کی گئیں اور مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی گئی کہ باقی ماندہ رسمی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جائیں تاکہ برآمدی عمل شروع ہو سکے۔ حکومتی موقف کے مطابق اس فیصلے کا مقصد شوگر انڈسٹری اور گنے کے کاشتکاروں کو سہارا دینا، زرمبادلہ حاصل کرنا اور اس کے ساتھ گھریلو صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے بچانا ہے۔

The News کے مطابق اجلاس میں نیشنل فوڈ سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 اگست 2026 تک ملک میں چینی کے ذخائر 26 لاکھ ٹن سے زیادہ بتائے گئے، جبکہ صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق 15 نومبر تک متوقع مقامی کھپت پوری کرنے کے بعد بھی قابلِ ذکر سرپلس باقی رہنے کا امکان ہے۔

حکومت نے فی الحال دو لاکھ ٹن برآمد کی اجازت کے طریقہ کار کو آگے بڑھایا ہے، لیکن شوگر ملز کے بعض نمائندوں نے اس مقدار کو ناکافی قرار دیتے ہوئے زیادہ کوٹے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے کرشنگ سیزن سے پہلے موجودہ ذخائر کم نہ ہوئے تو گوداموں کی گنجائش، نقدی کے بہاؤ اور کاشتکاروں کو ادائیگیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ صنعت کا موقف ہے، جبکہ حکومت نے مقامی صارفین کے مفاد اور قیمتوں کے استحکام کو بھی فیصلے کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026-27 کے آئندہ کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار 80 سے 85 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت ایک طرف برآمدات کے ذریعے اضافی ذخیرے کو کم کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف اس بات کی نگرانی کرنا چاہتی ہے کہ برآمدی اجازت مقامی مارکیٹ میں قلت یا قیمتوں کے غیر معمولی دباؤ کا باعث نہ بنے۔

مانیٹرنگ کمیٹی کی منظوری اسی توازن کے لیے دی گئی ہے۔ سرکاری پالیسی کے اگلے مرحلے میں برآمدی شرائط، عملی شیڈول اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں مکمل کی جائیں گی۔ دو لاکھ ٹن کا موجودہ منصوبہ فوری طور پر منظور شدہ برآمدی فریم ورک ہے؛ صنعت کی جانب سے اس سے بڑے کوٹے کا مطالبہ ایک الگ پالیسی درخواست ہے جس پر حکومت نے اس اجلاس میں حتمی منظوری نہیں دی۔