نیویارک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے COP31 ایکشن ایجنڈا کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں عملی شکل دینا ضروری ہے۔ انہوں نے نیویارک میں COP31 ایکشن ایجنڈا کے آغاز سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں حساسیت اور ترقیاتی ضروریات کو اجاگر کیا۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ نے صاف توانائی اور بجلی کاری، قابل تجدید توانائی کی توسیع، توانائی کی بچت والی عمارتوں، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مضبوط شہروں، موسمیاتی تعلیم و عوامی آگاہی، خوراکی تحفظ اور موسمیاتی لچک رکھنے والی زراعت کو مشترکہ ترجیحات میں شمار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی منصوبہ بندی کو صرف اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے عملی نفاذ اور مالی وسائل کے واضح انتظام پر توجہ دینا ہوگی۔

ورلڈ اکنامک فورم کے ’فنانسنگ پلانیٹ اینڈ پراسپیریٹی‘ اجلاس میں محمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے آفات سے نمٹنے کے فریم ورک، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت کے تخمینوں کے ساتھ موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبے مضبوط بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی معاونت اہم ہے، تاہم اسے ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا ضروری ہوگا۔

پاکستان حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی خطرات کے باعث بڑے اقتصادی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت عالمی موسمیاتی مالیات تک رسائی کے ساتھ ایسے منصوبوں پر زور دے رہی ہے جن سے بنیادی ڈھانچے، زراعت، توانائی اور شہری نظام کی لچک بہتر ہوسکے۔ وزیر خزانہ کی گفتگو میں بھی مالیاتی منصوبہ بندی اور آفات سے قبل تیاری کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

اسی دورے کے دوران اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل کوآپریشن ڈے 2026 سے متعلق ایک نشست میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹڈ فریم ورک کی جانب منتقلی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی جدت کو ریاستی تحفظات، جامع ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی معیارات کی تشکیل میں شامل ہونا چاہیے۔

COP31 ایکشن ایجنڈا کی حمایت پاکستان کے بین الاقوامی موسمیاتی مؤقف کا ایک حصہ ہے، لیکن عملی نتائج کا انحصار قومی منصوبوں، دستیاب مالی وسائل، بین الاقوامی تعاون اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔