وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں LEAP 2026 کانفرنس کے دوران ’’ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان‘‘ پویلین کا افتتاح کیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے یکم ستمبر 2026 کے سرکاری بیان کے مطابق پویلین میں 25 پاکستانی اسٹارٹ اپس اور 50 نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور مختلف ڈیجیٹل شعبوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کر رہی ہیں۔

پاکستان کی شرکت کا اعلان شدہ مقصد بین الاقوامی کاروباری روابط، کمپنیوں کے درمیان شراکت داری، سرمایہ کاروں سے رابطہ، عالمی منڈی تک رسائی اور ٹیکنالوجی برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ پویلین میں شرکت اور مصنوعات کی نمائش کو کسی حتمی سرمایہ کاری، خریداری کے آرڈر یا برآمدی معاہدے کی تکمیل نہیں سمجھا جاسکتا۔ سرکاری اعلامیے میں کسی دستخط شدہ تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری رقم یا نئی برآمدی آمدن کی الگ تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

شزا فاطمہ نے کانفرنس میں ’’ہم نے ڈیجیٹل قوم کیسے بنائی‘‘ کے عنوان سے کلیدی خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو قانونی بنیاد فراہم کی، جس کے تحت نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کیے گئے۔ وزیر کے مطابق ان اداروں کا مقصد پالیسی، ادارہ جاتی ذمہ داری اور بڑے ڈیجیٹل پروگراموں کے عمل درآمد میں تسلسل پیدا کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے رابطہ کاری اور مسابقت بہتر بنانے کے لیے 5G اسپیکٹرم نیلامی، خصوصی ٹیکنالوجی زونز اور آئی ٹی صنعت کے لیے ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ یہ تفصیل حکومتی پالیسی اور وزیر کے خطاب سے منسوب ہے۔ ہر اقدام کے حقیقی اثر کا تعین نیٹ ورک کی عملی کوریج، سرمایہ کاری، کاروباری لاگت، روزگار، کمپنیوں کی برآمدی آمدن اور صارفین کو ملنے والی خدمات کے قابلِ پیمائش اعداد سے ہوگا۔

وزیر نے بتایا کہ پاکستان ایک قومی ڈیجیٹل اسٹیک تیار کر رہا ہے۔ اس تصور میں ایسی بنیادی مشترکہ ڈیجیٹل سہولتیں شامل ہوسکتی ہیں جن پر مختلف سرکاری اور نجی خدمات تعمیر کی جائیں، تاہم سرکاری بیان میں اس اسٹیک کے تمام اجزا، ڈیٹا تحفظ کا ڈھانچہ، مکمل ہونے کی تاریخ یا ادارہ وار ذمہ داریاں تفصیل سے بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے اسے زیرِ تکمیل حکومتی پروگرام سمجھا جائے گا، مکمل اور یکساں طور پر فعال قومی نظام نہیں۔

شزا فاطمہ کے مطابق حکومت کا کردار بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، واضح پالیسی اور مضبوط ادارے فراہم کرنا ہے، جبکہ نجی شعبہ نئی مصنوعات، خدمات اور کاروباری نمو میں مرکزی کردار ادا کرے۔ انہوں نے بڑے ڈیجیٹل پروگراموں کے لیے قابلِ پیمائش کارکردگی اشاریوں اور ایک مرکزی ڈیجیٹل ادارے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ یہ پالیسی نقطۂ نظر ہے؛ مختلف سرکاری نظاموں کے انضمام اور نتائج کی آزاد جانچ آئندہ عملی پیش رفت سے ہوگی۔

انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ڈیجیٹل اختراع، صلاحیت سازی اور ابھرتی ٹیکنالوجیوں میں تعاون گہرا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ریاض میں پاکستانی کمپنیوں کی اجتماعی موجودگی انہیں ممکنہ سعودی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے براہ راست ملاقات کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم کسی رابطے کو حتمی شراکت داری تبھی سمجھا جائے گا جب متعلقہ کمپنیاں باقاعدہ معاہدہ، مالی شرائط یا عملی منصوبہ جاری کریں۔

حکومت نے نوجوان افرادی قوت، بڑھتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی اصلاحات کو پاکستان کی سرمایہ کاری کشش کے اجزا قرار دیا۔ یہ حکومتی جائزہ ہے اور اس کی مکمل تصدیق کے لیے سرمایہ کاری کے حقیقی بہاؤ، کاروباری بقا، آئی ٹی برآمدات، مہارت کے معیار اور عالمی مسابقت کے آزاد اعداد دیکھنا ضروری ہوگا۔ صرف کانفرنس میں شرکت سے یہ نتائج خودکار طور پر حاصل نہیں ہوتے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت LEAP 2026 میں پاکستانی پویلین کا افتتاح، 25 اسٹارٹ اپس اور 50 ٹیک کمپنیوں کی شرکت اور وزیر آئی ٹی کا ڈیجیٹل پالیسی سے متعلق خطاب ہے۔ پویلین کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاہدوں، سرمایہ کاری یا برآمدی آرڈرز کی مقدار بعد کی کمپنی یا سرکاری اطلاعات سے واضح ہوگی۔