اسلام آباد: پاکستان کی تین بڑی تیل ریفائنریز، سینرجیکو پی کے، اٹک ریفائنری لمیٹڈ اور نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، نے اپنے موجودہ پلانٹس کی جدید کاری کے لیے حکومت کی نامزد کردہ عمل درآمد کمپنی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے ساتھ اپ گریڈ معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق تینوں کمپنیوں نے 24 ستمبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو الگ الگ نوٹس کے ذریعے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

یہ معاہدے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے موجودہ یا براؤن فیلڈ ریفائنریز کے تحت کیے گئے ہیں۔ پالیسی 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی اور بعد میں فروری 2024 اور اگست 2026 میں اس میں ترامیم کی گئیں۔ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے آئی ایس جی ایس کو پالیسی کے تحت عمل درآمدی ادارہ مقرر کیا ہے، جس کے ساتھ ریفائنریز اپنے منظور شدہ اپ گریڈ منصوبوں پر آگے بڑھیں گی۔

سینرجیکو پی کے نے اپنے اسٹاک ایکسچینج نوٹس میں کہا کہ معاہدہ کمپنی کے موجودہ ریفائنری انفراسٹرکچر کی جدید کاری اور منظور شدہ منصوبے کے نفاذ کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اٹک ریفائنری نے اسے آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، مصنوعات کے معیار میں اضافہ کرنے اور یورو فائیو معیار کے ایندھن کی تیاری کی سمت اہم مرحلہ قرار دیا۔ نیشنل ریفائنری نے بھی کہا کہ منصوبہ جدید انفراسٹرکچر، توانائی کی پائیداری اور ملکی سپلائی چین کی مضبوطی میں مدد دے سکتا ہے۔

حکومت کی اپ گریڈ پالیسی کا بنیادی مقصد پرانی ریفائننگ صلاحیت کو جدید بنانا، نسبتاً صاف ایندھن تیار کرنا اور عالمی معیار کے قریب مصنوعات کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ پاکستان میں مقامی ریفائنریز طویل عرصے سے اپنے پلانٹس کی تکنیکی جدید کاری اور کم سلفر والے ایندھن کی پیداوار کے لیے بڑے سرمایہ خرچ کی ضرورت کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔

اگست 2026 میں ملک کی پانچ بڑی ریفائنریز، جن میں پاک عرب ریفائنری، پاکستان ریفائنری، نیشنل ریفائنری، سینرجیکو اور اٹک ریفائنری شامل ہیں، نے پالیسی کے تحت اپ گریڈ معاہدے کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ اس وقت صنعت کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 6 ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کا تخمینہ سامنے آیا تھا۔ یہ رقم تمام ممکنہ اپ گریڈ منصوبوں سے متعلق اندازہ ہے اور موجودہ تین معاہدوں کے تحت فوری طور پر خرچ یا موصول شدہ سرمایہ کاری نہیں سمجھی جانی چاہیے۔

ستمبر میں وفاقی کابینہ نے پالیسی میں مزید تبدیلیوں کے ساتھ ریفائنریز کے لیے یکم اکتوبر 2026 تک اپ گریڈ معاہدے مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کی تھی۔ مقررہ وقت میں معاہدہ نہ کرنے والی ریفائنریز کے لیے بعض مالی مراعات، خصوصاً ہائی اسپیڈ ڈیزل سے منسلک ڈیِمڈ ڈیوٹی میں کمی جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا تھا۔

تین کمپنیوں کے معاہدوں کے بعد اگلا اہم مرحلہ انفرادی اپ گریڈ منصوبوں کی فنانسنگ، انجینئرنگ، تعمیر اور مقررہ تکنیکی معیار کے مطابق عمل درآمد ہوگا۔ معاہدوں پر دستخط منصوبوں کے آغاز کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، لیکن ہر ریفائنری کی حتمی سرمایہ کاری، تعمیراتی مدت اور نئی پیداوار شروع ہونے کی تاریخ متعلقہ منصوبے کے عملی فیصلوں اور منظوریوں سے واضح ہوگی۔