اسلام آباد: پاکستان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران بھارت کے جواب میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارتی اقلیتوں سے متعلق انسانی حقوق کے معاملات اٹھائے ہیں۔ پاکستانی وفد کی جانب سے فرسٹ سیکریٹری عدیل ایم کھوکھر نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارت کے مؤقف پر تنقید کی اور کہا کہ نئی دہلی کشمیر اور اقلیتوں سے متعلق سوالات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے پاکستان کا حوالہ دیتا ہے۔
عدیل کھوکھر نے پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کو مسئلے کے حل کا بنیادی فریم ورک سمجھتا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ اور اٹوٹ انگ قرار دیتا رہا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے بھارتی فورسز پر ماورائے عدالت ہلاکتوں، من مانی حراستوں اور تشدد کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ ایسے واقعات کا حوالہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بعض رپورٹس میں بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ پر بھی اعتراض اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس قانون کے تحت اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے سرکاری منظوری کی شرط احتساب کو محدود کرتی ہے۔
عدیل کھوکھر نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل، زمین کے قوانین اور حلقہ بندیوں سے متعلق اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے خطے کی آبادیاتی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ بھارت ان اقدامات کو اپنی آئینی اور انتظامی پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔
پاکستانی وفد نے بھارت میں اقلیتی حقوق کا معاملہ اٹھاتے ہوئے مذہبی مقامات، شہریت سے متعلق 2019 کے قانون اور سیاسی نمائندگی کے موضوعات کا بھی ذکر کیا۔ عدیل کھوکھر نے ان پالیسیوں کو امتیازی قرار دیا، جبکہ بھارت ماضی میں مذہبی آزادی اور آئینی مساوات سے متعلق تنقید کو مسترد کرتا رہا ہے۔
یہ بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان اقوام متحدہ کے فورمز پر جاری سفارتی اختلافات کا تازہ اظہار ہے۔ دونوں ممالک کشمیر کی قانونی و سیاسی حیثیت، انسانی حقوق کی صورت حال اور ایک دوسرے سے متعلق سکیورٹی الزامات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جس کے باعث ایسے بین الاقوامی اجلاسوں میں حقِ جواب اور جوابی بیانات معمول کا حصہ بنے رہتے ہیں۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستانی نمائندے کا بیان یکم اکتوبر کو انسانی حقوق کونسل کے جاری اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ خبر میں شامل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور امتیازی سلوک سے متعلق نکات پاکستانی وفد کے دعوے اور مؤقف کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ عدالتی نتائج کے طور پر۔
