اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حقِ خود ارادیت سے متعلق اپنی دیرینہ ذمہ داریوں اور قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عالمی قانون کو مختلف تنازعات میں یکساں معیار کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو ایک صورتحال میں سختی سے نافذ اور دوسری میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عثمان جدون نے کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری کئی دہائیوں سے ان وعدوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں جن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کا ذکر موجود ہے۔ انہوں نے بھارت پر 5 اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، گرفتاریاں اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششیں بڑھانے کے الزامات عائد کیے۔ یہ الزامات پاکستان کا سرکاری مؤقف ہیں؛ بھارت کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ اور اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔

بھارتی نمائندے نے رائٹ آف ریپلائی میں پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور پاکستان پر دہشت گردی اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات لگائے۔ پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب نے فلسطین کو بھی عالمی ضمیر کا ایک بنیادی امتحان قرار دیا۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد، بین الاقوامی قانون کے احترام، جوابدہی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی تکمیل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے اصول صرف منتخب جغرافیوں یا مخصوص سیاسی حالات تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔

اپنے خطاب میں عثمان جدون نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض، محدود مالی گنجائش، موسمیاتی جھٹکوں اور ٹیکنالوجی کی بڑھتی خلیج کو بھی انسانی حقوق اور ترقی کے مسائل سے جوڑا۔ انہوں نے حقِ ترقی کو ایک بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے فوائد تک ترقی پذیر ممالک کی مساوی رسائی ضروری ہے۔

پاکستان نے اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں و ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف مسلسل بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔ یہ بیانات جنرل اسمبلی کی کمیٹی میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کی نمائندگی کرتے ہیں اور کشمیر و فلسطین پر فریقین کے متضاد مؤقف بدستور برقرار ہیں۔