اسلام آباد: پاکستان کے 12 تاریخی اور ثقافتی مقامات کو یونیسکو کی عالمی ورثہ عارضی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فہرست میں پاکستانی مقامات کی مجموعی تعداد 37 ہوگئی۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق نئی شمولیت میں گندھارا اور بدھ مت ورثے، مغلیہ تعمیرات، صحرائی قلعوں اور مقامی ثقافت سے متعلق مقامات نمایاں ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی وادی کیلاش اور صوبے کے مزید مقامات، سندھ کے کوٹ ڈیجی، ناؤکوٹ اور عمرکوٹ کے تاریخی قلعے، جبکہ پنجاب کے پھروالہ قلعہ، روات قلعہ اور سلطان مقرب خان کا مقبرہ رپورٹ میں نام لے کر بیان کیے گئے ہیں۔ خبر نے تمام 12 نام ایک الگ مکمل فہرست کی صورت میں نہیں دیے، اس لیے غیرمذکور مقامات کے نام اندازے سے شامل نہیں کیے جا رہے۔
یونیسکو کی عارضی فہرست میں جگہ ملنا کسی مقام کو فوراً مکمل عالمی ورثہ درجہ ملنے کے برابر نہیں۔ یہ نامزدگی کے عمل کا ابتدائی اور اہم مرحلہ ہے، جس کے بعد متعلقہ ملک کو تحفظ، تاریخی اہمیت، انتظامی نظام اور عالمی معیار سے متعلق تفصیلی دستاویزات اور نامزدگی کا مقدمہ آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اس فرق کی وضاحت ضروری ہے تاکہ عارضی شمولیت کو حتمی عالمی ورثہ منظوری نہ سمجھا جائے۔
ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نئی شمولیت سے قومی ورثے کے تحفظ، سیاحت، مقامی معیشت، پاکستان کی عالمی شناخت اور ثقافتی سفارت کاری کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ یہ ممکنہ فوائد ہیں، خودکار نتائج نہیں۔ سیاحت یا مقامی آمدن میں حقیقی اضافہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مقامات کے تحفظ، رسائی، رہنمائی، مقامی شراکت اور ذمہ دار سیاحتی انتظام کے لیے کتنے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
اگلا اہم مرحلہ متعلقہ مقامات کے تحفظاتی منصوبوں، مکمل نامزدگی دستاویزات اور یونیسکو کے آئندہ جائزوں سے سامنے آئے گا۔ موجودہ خبر کا تصدیق شدہ نکتہ یہ ہے کہ 12 مزید پاکستانی مقامات عارضی فہرست کا حصہ بنے اور مجموعی تعداد 37 تک پہنچی؛ حتمی عالمی ورثہ حیثیت مستقبل کے الگ فیصلے سے مشروط رہے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




