کراچی: پاکستان میں ستمبر کے دوران یوریا کھاد کی فروخت ماہانہ بنیاد پر 13 فیصد کم ہوکر 6 لاکھ 11 ہزار ٹن رہ گئی، اگرچہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں فروخت 43 فیصد زیادہ تھی۔ 2026 کے پہلے نو ماہ میں مجموعی یوریا فروخت معمولی 5 فیصد اضافے کے ساتھ 4.4 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کی میشہ سہیل کے مطابق اگست کے مقابلے میں کمی کی بڑی وجہ موسمی عوامل ہیں، جبکہ سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ گزشتہ سال کے کم بیس اور بہتر زرعی سرگرمی کے باعث سامنے آیا۔ فصلوں کی سرگرمی بہتر ہونے سے یوریا کی طلب کو سہارا ملا، تاہم ماہانہ فروخت میں ستمبر کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی۔

صنعت کے یوریا ذخائر ستمبر میں کم ہوکر 0.65 ملین ٹن رہ گئے، جو نو ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ اگست میں یہ ذخائر تقریباً 0.75 ملین ٹن تھے۔ کمپنیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ ذخیرہ اینگرو فرٹیلائزرز کے پاس 5 لاکھ 19 ہزار ٹن تھا، جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس 88 ہزار ٹن اور فاطمہ گروپ کے پاس 29 ہزار ٹن یوریا موجود تھا۔

فاسفیٹ کھاد ڈی اے پی کی فروخت میں زیادہ تیز کمی دیکھی گئی۔ ستمبر میں ڈی اے پی فروخت سالانہ بنیاد پر 39 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد کم ہوکر 59 ہزار ٹن رہ گئی۔ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران ڈی اے پی کی مجموعی فروخت 7 لاکھ 56 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے۔ ستمبر کے اختتام پر ڈی اے پی کا ذخیرہ تقریباً 2 لاکھ 59 ہزار ٹن تھا۔

کھاد کی فروخت زرعی سیزن، فصلوں کی قیمتوں، کسانوں کی نقدی کی صورتحال، کھاد کی دستیابی اور قیمتوں سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ یوریا کے ذخائر میں کمی مارکیٹ کی سپلائی صورتحال کے لیے اہم اشارہ ہے، تاہم دستیاب مقدار کی موزونیت کا انحصار آئندہ فصلوں کی طلب اور پیداوار و درآمد کے بہاؤ پر ہوگا۔

تجزیہ کار کے مطابق بہتر فصل قیمتوں کے تناظر میں آنے والے عرصے میں یوریا فروخت میں معتدل اضافہ متوقع ہے۔ تاہم ستمبر کے اعداد و شمار سے واضح ہے کہ یوریا اور ڈی اے پی کی طلب کے رجحانات مختلف ہیں اور زرعی ان پٹس کی مجموعی مارکیٹ کو ہر کھاد کی الگ طلب و رسد کی صورتحال کے مطابق دیکھنا ہوگا۔