نیویارک: پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے مجوزہ نئے طیاروں، بالخصوص بوئنگ 787 ڈریم لائنرز، کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ مالی معاونت طلب کی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیویارک میں امریکی ایکسِم بینک کے چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات میں ہوا بازی، ریفائنریوں کی جدید کاری اور ریکوڈک منصوبے سے متعلق فنانسنگ کے امکانات پر گفتگو کی۔

وزارتِ خزانہ سے منسوب بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی بوئنگ طیاروں میں دلچسپی سے آگاہ کیا اور طیاروں کے ساتھ انجنوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ پیکیج پر تعاون کی درخواست کی۔ بات چیت میں ایسے بوئنگ 777 طیاروں کے لیے درکار سپیئر پارٹس کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جو اس وقت گراؤنڈ ہیں اور جنہیں دوبارہ سروس میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ایک وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر کام جاری رکھا جائے، جبکہ بعض مخصوص لین دین، جن میں طیاروں کی پیشگی ادائیگیوں کے لیے ممکنہ فنانسنگ بھی شامل ہے، کو ترجیحی بنیاد پر دیکھا جائے۔

پی آئی اے کے بیڑے کی جدید کاری سے متعلق الگ ملاقات میں محمد اورنگزیب نے بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے بھی گفتگو کی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوئنگ نے پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کے حصول سے متعلق نظرثانی شدہ تجویز فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ پہلے ڈیلیوری سلاٹس، عبوری لیزنگ، انجن، پرزہ جات، مینٹیننس اور گراؤنڈ طیاروں کی بحالی جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ یہ معاملات ابھی مذاکراتی مرحلے میں ہیں اور کسی خریداری یا فنانسنگ معاہدے کو حتمی قرار نہیں دیا گیا۔

امریکی ایکسِم بینک کے ساتھ گفتگو صرف ہوا بازی تک محدود نہیں رہی۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی ممکنہ معاونت کا ذکر کیا۔ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انہوں نے اسے پاکستان کی مستقبل کی برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیا اور منصوبے میں تاخیر کے معاشی اثرات کی طرف توجہ دلائی۔ پاکستانی حکام نے امریکی ایکسِم بینک کی ریکوڈک سے متعلق موجودہ دلچسپی اور تعاون کو بھی سراہا۔

یہ ملاقاتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئیں، جہاں پاکستانی وفد اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داری کے لیے مختلف بین الاقوامی اداروں اور کمپنیوں سے رابطے کر رہا ہے۔ مجوزہ فنانسنگ کی شرائط، حجم اور کسی ممکنہ منظوری کا انحصار متعلقہ اداروں کی جانچ، تجارتی مذاکرات اور باضابطہ منظوریوں پر ہوگا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو ایک مالیاتی تعاون کی درخواست اور مذاکراتی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ خریداری یا قرض معاہدے کے طور پر۔