راولپنڈی: پاکستان اور امریکا کے فوجی دستوں نے مشترکہ تربیتی مشق ’انسپائرڈ گیمبٹ 2026‘ شروع کر دی ہے، جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کی مہارت، مشترکہ آپریشنل طریقہ کار اور دونوں افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کو بہتر بنانا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مشق میں پاکستانی فوج اور امریکی فوج کے دستے حصہ لے رہے ہیں۔ تربیتی سرگرمیوں میں ایسے حربی اور عملی پہلو شامل کیے گئے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، چھوٹے دستوں کی ہم آہنگی اور پیچیدہ حالات میں مشترکہ ردعمل سے متعلق ہیں۔

پاکستان اور امریکا ماضی میں بھی انسداد دہشت گردی اور فوجی تربیت کے شعبے میں مشترکہ مشقیں کرتے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد دونوں افواج کو ایک دوسرے کے طریقہ کار، تربیتی معیار اور آپریشنل تجربات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے انسداد دہشت گردی آپریشن کیے ہیں، جبکہ امریکی فوج بھی اس شعبے میں وسیع بین الاقوامی تجربہ رکھتی ہے۔

مشترکہ مشق کو دونوں ممالک کے وسیع دفاعی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، لیکن اسے کسی نئے دفاعی اتحاد یا مستقل مشترکہ تعیناتی کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ فوجی مشقیں محدود مدت اور متعین تربیتی اہداف کے تحت منعقد ہوتی ہیں اور ان کے نتائج عموماً پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی رابطہ بہتر بنانے تک محدود رہتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں سلامتی، انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام اور دفاعی رابطے اہم موضوعات رہے ہیں۔ انسپائرڈ گیمبٹ 2026 اسی پیشہ ورانہ فوجی رابطے کا حصہ ہے۔ دستیاب معلومات میں مشق کے ہر مرحلے، شریک اہلکاروں کی مکمل تعداد یا تمام تربیتی مقامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے انہی نکات کو حتمی سمجھا جا سکتا ہے جن کی سرکاری یا معتبر رپورٹنگ میں تصدیق ہوئی ہے۔ مشق کی تکمیل کے بعد دونوں افواج کی جانب سے نتائج اور تربیتی سرگرمیوں کی مزید تفصیل سامنے آ سکتی ہے۔