اسلام آباد: پاکستان نے امریکی مالیاتی اداروں کو ملک کی تیل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دونوں جانب سے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیر پیٹرولیم نے امریکی سفارت کار کو بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے دوران پاکستان کی توانائی ضروریات اور ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ نٹالی بیکر نے توانائی کی ضروریات کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے اور امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

ملاقات میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے حکام نے بھی امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے میں ظاہر کی گئی دلچسپی کے بارے میں بریفنگ دی۔ طویل مدتی توانائی سپلائی معاہدوں کے امکانات کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم کسی مخصوص امریکی سرمایہ کار، سرمایہ کاری کی رقم یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو عملی سرمایہ کاری کی تکمیل کے بجائے سرکاری سطح کی دعوت اور جاری تجارتی رابطوں کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستان میں پانچ میں سے چار مقامی ریفائنریاں گزشتہ ماہ حکومت کے ساتھ اپ گریڈیشن کے باضابطہ معاہدوں میں داخل ہوئی تھیں۔ ان منصوبوں کے تحت تقریباً پانچ سال میں لگ بھگ پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ بتایا گیا ہے، جس کا مقصد ریفائننگ ٹیکنالوجی بہتر کرنا، مصنوعات کا معیار بلند کرنا اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ کسی امریکی مالیاتی ادارے کی شمولیت کا انحصار تجارتی شرائط، مالی قابل عملیت اور متعلقہ منظوریوں پر ہوگا۔

وزیر پیٹرولیم نے امریکی کمپنیوں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ ملاقات مجموعی طور پر پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی تعاون کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، جبکہ کسی ٹھوس سرمایہ کاری فیصلے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور کمپنیوں کے فیصلوں سے واضح ہوں گی۔