پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت اور علاقائی ٹرانسپورٹ روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان حالیہ مذاکرات میں سڑک اور ریل رابطوں، ٹرانزٹ تجارت، کسٹمز سہولت، کاروباری وفود اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت ہوئی، جبکہ وسطی ایشیا کو پاکستان کی بندرگاہوں تک زیادہ مؤثر زمینی رسائی فراہم کرنے کے امکانات پر بھی توجہ دی گئی۔

ازبکستان خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے اور بین الاقوامی تجارت کے لیے متعدد زمینی راستوں پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر اسے بحیرہ عرب کی بندرگاہوں تک نسبتاً مختصر رسائی کا امکان فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے لیے افغانستان کے راستے محفوظ، قابل اعتماد اور تجارتی طور پر قابل عمل ٹرانزٹ نظام بنیادی شرط ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان۔ازبکستان معاشی تعاون میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے کسٹمز طریقہ کار آسان بنانے، تجارتی دستاویزات میں سہولت اور کاروباری برادریوں کے براہ راست روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات، انجینئرنگ اشیا اور خدمات ایسے شعبے ہیں جہاں تجارت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ کاروباری سطح کے معاہدے سرکاری اہداف کو عملی تجارتی بہاؤ میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہوں گے۔

علاقائی رابطے کے بڑے منصوبوں میں مجوزہ ٹرانس افغان ریلوے بھی شامل ہے، جس کا تصور وسطی ایشیا کو افغانستان کے ذریعے پاکستان کے ریل نیٹ ورک اور بندرگاہوں سے جوڑنا ہے۔ ایسے منصوبے کے لیے بڑے مالی وسائل، تکنیکی ڈیزائن، سکیورٹی، سرحدی ہم آہنگی اور تینوں متعلقہ ممالک کے درمیان طویل مدتی انتظامات درکار ہوں گے۔ اس لیے سیاسی حمایت کے باوجود اسے فوری طور پر مکمل ہونے والا منصوبہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

حالیہ مذاکرات تجارت اور رابطے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی سمت کو مضبوط کرتے ہیں، لیکن حقیقی نتائج کا انحصار نقل و حمل کی لاگت، سرحدی وقت، کسٹمز سہولت، افغانستان کی صورتحال اور نجی شعبے کی شرکت پر ہوگا۔ اگر یہ رکاوٹیں کم ہوئیں تو پاکستان وسطی ایشیائی تجارت کے لیے بندرگاہی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر اپنا کردار بڑھا سکتا ہے، جبکہ ازبکستان کو متبادل سمندری راستہ اور پاکستانی کاروباروں کو نئی علاقائی منڈیوں تک رسائی مل سکتی ہے۔