اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدت کی قیمتوں کو جانچنے والا حساس قیمت اشاریہ (SPI) تازہ ہفتے کے دوران 0.21 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 11.53 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق اشاریہ 369.69 پوائنٹس سے بڑھ کر 370.46 پوائنٹس پر پہنچا۔
SPI ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کے ذریعے مرتب کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد روزمرہ استعمال کی اشیا میں مختصر مدت کے اتار چڑھاؤ کی نگرانی کرنا ہے۔ تازہ اعدادوشمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات سمیت مختلف عوامل گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اعدادوشمار میں تمام اشیا کی قیمتیں ایک ہی سمت میں نہیں گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹماٹر کی قیمت سالانہ تقابل میں 45.52 فیصد، آلو 39.54 فیصد، چینی 21.95 فیصد اور انڈے 17.47 فیصد سستے ہوئے۔ اسی طرح پاؤڈر نمک، مسور، چنا اور مونگ کی دال کی قیمتوں میں بھی مختلف شرح سے کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی مجموعی اشاریے میں بعض بڑھتی قیمتوں کے اثر کو جزوی طور پر متوازن کرتی ہے۔
ہفتہ وار SPI عام صارف کے لیے مہنگائی کے فوری رجحان کا ایک اہم پیمانہ ہے، لیکن یہ ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس کا متبادل نہیں۔ دونوں اشاریوں کی اشیا، وزن اور پیمائش کا طریقہ مختلف ہے، اس لیے 11.53 فیصد کی شرح کو پوری معیشت کی عمومی ماہانہ افراط زر کی شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تازہ ہفتے میں اشاریے کا 0.21 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منتخب ضروری اشیا کی مجموعی لاگت میں معمولی ہفتہ وار اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ تقابل میں سطح نمایاں طور پر بلند رہی۔ آنے والے ہفتوں کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ قیمتوں کا یہ دباؤ برقرار رہتا ہے یا خوراک اور دیگر بنیادی اشیا میں کمی مجموعی اشاریے کو نیچے لاتی ہے۔
