کراچی/اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) یکم اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.53 فیصد بلند رہا، جبکہ ایک ہفتے کے مقابلے میں اس میں 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ایس پی آئی 369.69 سے بڑھ کر 370.46 پوائنٹس ہو گیا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے پی بی ایس کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ گزشتہ ہفتے سالانہ شرح 11.92 فیصد تھی، اس لیے نئی ریڈنگ میں معمولی کمی کے باوجود مہنگائی بدستور دو ہندسوں میں رہی۔ 51 اشیا کی ہفتہ وار نگرانی میں 20 اشیا کی قیمتیں بڑھیں، 10 کی کم ہوئیں اور 21 کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوئیں۔ یہ نگرانی 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے حاصل کردہ قیمتوں پر مبنی ہے۔
توانائی کی قیمتیں سالانہ مہنگائی میں نمایاں عنصر رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل ایک سال پہلے کے مقابلے میں 44.50 فیصد اور پٹرول 44.05 فیصد مہنگا تھا۔ ایل پی جی کے 11.67 کلوگرام سلنڈر کی قیمت ہفتہ وار 1.17 فیصد بڑھی اور سالانہ بنیاد پر 66.59 فیصد زیادہ رہی۔ تاہم اسی ہفتے ڈیزل کی قیمت میں 3.43 فیصد اور پٹرول میں 0.65 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
خوراک کی اشیا میں مختلف رجحانات سامنے آئے۔ مرغی کی قیمت ہفتہ وار 7.25 فیصد بڑھی، جبکہ لہسن، چنے کی دال اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ دوسری طرف سالانہ بنیاد پر ٹماٹر، آلو اور چینی کی قیمتیں کم رہیں۔ پیاز ایک سال پہلے کے مقابلے میں 114.20 فیصد مہنگا اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 32.65 فیصد زیادہ قیمت پر ریکارڈ کیا گیا۔
آمدنی کے مختلف گروہوں پر مہنگائی کا اثر بھی یکساں نہیں تھا۔ پی بی ایس کے اعداد کے مطابق سب سے کم اخراجاتی گروہ کے لیے سالانہ اضافہ 9 فیصد جبکہ سب سے زیادہ اخراجاتی گروہ کے لیے 11.99 فیصد تھا۔ الگ ماہانہ اشاریے کے مطابق ستمبر 2026 میں صارف قیمت مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کی 11.1 فیصد شرح سے کم تھی۔ ہفتہ وار ایس پی آئی اور ماہانہ سی پی آئی الگ پیمانے ہیں، اس لیے دونوں کو براہ راست ایک ہی اشاریہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

