اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور تازہ ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ، یعنی ایس پی آئی، گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.99 فیصد بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات پر دباؤ بڑھایا ہے۔
ہفتہ وار ایس پی آئی عام استعمال کی منتخب اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی ناپتا ہے اور اسے روزمرہ مہنگائی کی فوری سمت جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار میں کئی ضروری غذائی اشیا کے ساتھ توانائی اور پیٹرولیم سے منسلک اخراجات نے مجموعی اشاریے کو اوپر دھکیلا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں سال بہ سال قلیل مدتی مہنگائی دو ہندسوں میں رہی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتیں صرف براہ راست ٹرانسپورٹ کے اخراجات نہیں بڑھاتیں بلکہ مال برداری، زرعی پیداوار، منڈی تک رسائی اور مختلف مصنوعات کی تقسیم کی لاگت پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ اسی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ وقت کے ساتھ خوراک اور دوسری اشیا کی خوردہ قیمتوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی سمیت مختلف محصولات وصول کرتی ہے۔ مالیاتی اہداف اور عالمی خام تیل کی قیمتوں کے درمیان توازن کی وجہ سے مقامی ایندھن قیمتوں میں حالیہ عرصے میں بار بار تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ بلند عالمی تیل قیمتیں اور شرح مبادلہ بھی درآمدی توانائی کی مقامی لاگت کے اہم عوامل ہیں۔
ہفتہ وار اشاریہ پورے صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں، کیونکہ اس میں محدود اشیا اور مخصوص منڈیوں کی قیمتیں شامل ہوتی ہیں۔ تاہم مسلسل کئی ہفتوں تک بلند ایس پی آئی کم آمدنی اور تنخواہ دار گھرانوں کے لیے فوری دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں پیٹرولیم قیمتوں، زرعی رسد اور بنیادی خوراک کی قیمتوں کی سمت اس بات کا تعین کرے گی کہ قلیل مدتی مہنگائی میں کمی آتی ہے یا دباؤ مزید برقرار رہتا ہے۔
