پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کے اہم پیمانے حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں یکم اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار SPI 370.46 پوائنٹس رہا، جو اس سے پچھلے ہفتے کے 369.69 پوائنٹس سے زیادہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اسی ہفتے کی مہنگائی 11.53 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
بزنس ریکارڈر اور دیگر معاشی رپورٹس کے مطابق تازہ ہفتے میں کئی اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے ہفتہ وار دباؤ کا سبب بنا۔ مرغی کی قیمت میں 7.25 فیصد، لہسن میں 1.85 فیصد، دال چنا میں 1.30 فیصد اور ایل پی جی میں 1.17 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ حساس قیمت اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کو ٹریک کرتا ہے اور قلیل مدتی مہنگائی کے رجحان کی فوری تصویر فراہم کرتا ہے۔
پی بی ایس کے اعداد کے مطابق موجودہ اشاریہ 2015-16 کو بنیادی سال مان کر مرتب کیا جاتا ہے۔ یکم اکتوبر والے ہفتے میں اشاریہ 370.46 پوائنٹس تک پہنچا، جبکہ 24 ستمبر کو ختم ہونے والے پچھلے ہفتے کے لیے یہ 369.69 پوائنٹس تھا۔ اس طرح ایک ہفتے میں مجموعی تبدیلی محدود رہی، تاہم سالانہ اضافہ دو ہندسوں میں برقرار ہے، جو صارفین کی قوتِ خرید پر دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے پی بی ایس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ سالانہ شرح پچھلی ریڈنگ کے 11.92 فیصد سے کم ہوئی، مگر اب بھی 10 فیصد سے اوپر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایندھن کی بلند قیمتیں سالانہ مہنگائی میں اہم عنصر بنی ہوئی ہیں، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ گھرانوں کے بجٹ پر فوری اثر ڈالتا ہے۔
SPI میں ہفتہ وار اضافہ صارف قیمت اشاریہ (CPI) سے الگ پیمانہ ہے؛ CPI ماہانہ بنیاد پر وسیع تر اشیا اور خدمات کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ SPI بنیادی ضروری اشیا کی نسبتاً فوری تبدیلی دکھاتا ہے۔ اس لیے دونوں اعداد کو الگ تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ تازہ سرکاری ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہفتہ وار اضافہ نسبتاً معمولی تھا، مگر سالانہ سطح پر مہنگائی کا دباؤ بدستور نمایاں ہے۔

