اسلام آباد: پاکستان اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے ملک میں غذائی تحفظ، غذائیت اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تقریباً 12 کروڑ ڈالر مالیت کے تعاون پروگرام پر اتفاق کیا ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد ایسے گھرانوں اور آبادیوں تک مدد پہنچانا ہے جو خوراک کی عدم دستیابی، غذائی کمی یا قدرتی آفات اور موسمیاتی دباؤ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

دستیاب رپورٹنگ کے مطابق پروگرام میں ہنگامی غذائی امداد کے ساتھ ساتھ غذائیت بہتر بنانے، مقامی اداروں کی صلاحیت بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے کے لیے پائیدار اقدامات شامل ہوں گے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے سیلاب، خشک سالی، مہنگائی اور زرعی پیداوار پر موسمی اثرات نے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے خوراک تک رسائی کو ایک اہم پالیسی مسئلہ بنا دیا ہے۔

عالمی خوراک پروگرام پاکستان میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ پہلے سے مختلف غذائی اور ہنگامی امدادی منصوبوں پر کام کرتا رہا ہے۔ نئے تعاون کے تحت توجہ صرف بحران کے وقت خوراک فراہم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے نظام مضبوط بنانے پر بھی ہوگی جو مستقبل کے جھٹکوں کے دوران مقامی سطح پر بہتر ردعمل دے سکیں۔ اس میں غذائیت کی نگرانی، کمزور طبقات کی شناخت اور آفات کے خطرے میں کمی جیسے شعبے اہم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں اور ماؤں میں غذائی کمی طویل عرصے سے صحت اور انسانی ترقی کا مسئلہ رہی ہے۔ غذائی تحفظ کا تعلق صرف خوراک کی مجموعی دستیابی سے نہیں بلکہ گھرانوں کی قوت خرید، محفوظ اور متوازن غذا تک رسائی، صاف پانی، صحت کی سہولت اور مقامی منڈیوں کے تسلسل سے بھی ہے۔ اسی لیے غذائیت سے متعلق پروگرام عموماً خوراک کی فراہمی کے ساتھ صحت، سماجی تحفظ اور مقامی انتظامیہ کے تعاون پر انحصار کرتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کیونکہ شدید بارشیں، سیلاب، گرمی کی لہریں اور پانی کی قلت زرعی پیداوار، مویشیوں اور دیہی آمدنی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پاکستان اور عالمی خوراک پروگرام کے نئے تعاون میں لچک بڑھانے کی شمولیت اسی طویل مدتی خطرے کو مدنظر رکھنے کی کوشش ہے۔

اعلان کردہ 12 کروڑ ڈالر پروگرام کی مجموعی مالی قدر ہے؛ اسے فوری طور پر تقسیم شدہ نقد رقم یا مکمل خرچ شدہ فنڈ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس تعاون کے عملی نتائج کا انحصار منصوبوں کے نفاذ، جغرافیائی ترجیحات، مستحق افراد کی درست شناخت اور وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے پر ہوگا۔