بیجنگ: پاکستان کے دو خلاباز چین کے انسانی خلائی پروگرام کے تحت باقاعدہ تربیت حاصل کر رہے ہیں اور انہیں مستقبل قریب میں چین کے خلائی اسٹیشن پر جانے والے مشن میں شامل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کے ایک اہم عملی مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

چین کے انسانی خلائی پروگرام کے ڈپٹی چیف ڈیزائنر اور سینئر خلاباز یانگ لی وے نے چین کی نئے دور کی خلائی تحقیق سے متعلق ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ دو پاکستانی خلاباز اس وقت چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت ہیں۔ ان کے مطابق تربیت مکمل ہونے کے بعد پاکستانی خلاباز چینی عملے کے ساتھ چین کے خلائی اسٹیشن پر پرواز کریں گے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں زیر تربیت پاکستانیوں کی شناخت خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مشن کی حتمی تاریخ، قیام کی مدت یا دونوں پاکستانی خلابازوں میں سے کس کو کس مخصوص پرواز میں شامل کیا جائے گا، اس بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے فی الحال دستیاب معلومات کو تربیتی مرحلے اور مستقبل کے مجوزہ مشن تک محدود سمجھا جا رہا ہے۔

چین کا انسانی خلائی پروگرام اپنے مستقل خلائی اسٹیشن کے ذریعے مدار میں سائنسی تجربات اور طویل مدتی انسانی موجودگی سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی خلابازوں کی تربیت اس تعاون کو محض سائنسی یا ادارہ جاتی رابطوں سے آگے لے جا کر انسانی خلائی پرواز کے شعبے تک پہنچاتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت خلائی سائنس، خلابازی، مشن آپریشنز اور انسانی خلائی پرواز سے متعلق تکنیکی مہارت کے حصول کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم تربیت کے نصاب، مشن میں پاکستانی عملے کے کردار اور ممکنہ سائنسی تجربات کی تفصیلات ابھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ آئندہ مرحلے میں مشن شیڈول اور عملے کے انتخاب سے متعلق مزید اعلانات متوقع ہوں گے، جن کی تصدیق متعلقہ پاکستانی اور چینی اداروں کی جانب سے ہونے پر ہی حتمی تفصیلات واضح ہوں گی۔