بیجنگ: چین کے انسانی خلائی پروگرام کے ڈپٹی چیف ڈیزائنر اور سینئر خلاباز یانگ لی وے نے کہا ہے کہ دو پاکستانی خلاباز اس وقت چین کے خلاباز تحقیقی و تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں چینی خلابازوں کے ساتھ چین کے خلائی اسٹیشن کے مشن میں حصہ لیں گے۔ یہ بات انہوں نے چین کی نئی دور کی خلائی تحقیق سے متعلق اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی بریفنگ کے دوران کہی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یانگ لی وے نے بتایا کہ دونوں پاکستانی امیدوار باقاعدہ تربیتی عمل کا حصہ ہیں۔ موجودہ منصوبے کے تحت تربیت اور متعلقہ جائزوں کے مراحل مکمل ہونے کے بعد دونوں میں سے ایک پاکستانی خلاباز کو مختصر دورانیے کے خلائی مشن کے لیے پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر منتخب کیا جائے گا۔ یہ مشن پاکستان کے انسانی خلائی پروگرام اور چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے ساتھ تعاون میں ایک اہم مرحلہ ہوگا۔
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی نے اپریل 2026 میں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو پاکستانی امیدواروں کے طور پر منتخب کیا تھا۔ پاکستانی اور چینی ذرائع کے مطابق دونوں امیدوار متعدد طبی، نفسیاتی اور پیشہ ورانہ جانچ کے مراحل سے گزرنے کے بعد تربیت کے لیے چین پہنچے۔ اس پروگرام کی بنیاد فروری 2025 میں پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے درمیان ہونے والے تعاون کے معاہدے پر رکھی گئی تھی۔
دستیاب سرکاری منصوبے کے مطابق منتخب پاکستانی پے لوڈ اسپیشلسٹ خلائی اسٹیشن پر سائنسی تحقیق میں حصہ لے گا۔ پہلے جاری کردہ تفصیلات میں مائیکرو گریویٹی کے ماحول میں مادی سائنس، فلوئڈ فزکس، حیاتیاتی علوم اور بائیو ٹیکنالوجی سمیت متعدد تحقیقی شعبوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم 22 ستمبر کی تازہ بریفنگ میں پرواز کی حتمی تاریخ یا دونوں امیدواروں میں سے مشن کے لیے منتخب ہونے والے فرد کا نام جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان کے لیے یہ پروگرام اس اعتبار سے منفرد ہے کہ چین نے پاکستانی امیدواروں کو اپنے انسانی خلائی پروگرام میں پہلے غیر ملکی خلاباز امیدواروں کے طور پر شامل کیا ہے۔ یانگ لی وے کا تازہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انتخاب کے بعد تربیتی مرحلہ جاری ہے اور خلائی پرواز کا منصوبہ برقرار ہے۔ حتمی مشن، عملے کی تشکیل اور روانگی کے شیڈول کی مزید تفصیلات متعلقہ چینی اور پاکستانی ادارے بعد میں جاری کریں گے۔

