پاکستانی ایمبیڈڈ فنانس اور فن ٹیک کمپنی ’ابھی‘ نے متحدہ عرب امارات میں قائم ادائیگیوں کے انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی نِم کارڈ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مطابق مشترکہ ٹیکنالوجی کا مقصد یو اے ای کے بینکوں اور لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرض کی درخواست سے رقم کی ادائیگی تک مختلف مراحل زیادہ مربوط انداز میں چلانے میں مدد دینا ہے۔

اعلان کے مطابق ’ابھی‘ کے کاروباری مالیاتی حل کو نِم کارڈ کے کارڈ اور ادائیگی انفراسٹرکچر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ مجوزہ ورک فلو میں ڈیجیٹل آن بورڈنگ، قرض کی درخواست یا origination، کریڈٹ فیصلہ سازی اور منظور شدہ رقم کی disbursement شامل ہو سکتی ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس انضمام سے وہ عمل جو عموماً مختلف نظاموں اور سروس فراہم کنندگان میں بٹا ہوتا ہے، ایک زیادہ مربوط ٹیکنالوجی ماڈل کے تحت چلایا جا سکے گا۔

یہ شراکت داری براہِ راست کسی مخصوص قرض فنڈ یا فوری قرض تقسیم کے اعلان کے مترادف نہیں ہے۔ قرض کی منظوری، کریڈٹ رسک، قیمت یا مارک اپ، دستاویزات اور ریگولیٹری تعمیل متعلقہ بینک یا لائسنس یافتہ مالیاتی ادارے کی پالیسی اور متحدہ عرب امارات کے قواعد کے تحت طے ہوں گے۔ دونوں ٹیکنالوجی کمپنیاں بنیادی طور پر قرض کے عمل کو چلانے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مالیاتی ٹولز مہیا کرنے کی بات کر رہی ہیں۔

’ابھی‘ نے پاکستان سے باہر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت مختلف مالیاتی خدمات اور ایمبیڈڈ فنانس ماڈلز پر کام کیا ہے۔ نِم کارڈ خطے میں کارڈ جاری کرنے، ادائیگی پراسیسنگ اور متعلقہ مالیاتی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر فراہم کرتا ہے۔ نئی شراکت داری یو اے ای کی ایس ایم ای فنانسنگ مارکیٹ کو ہدف بناتی ہے، جہاں کاروباری اداروں کی کریڈٹ درخواستوں کو تیز، ڈیجیٹل اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کی طلب بڑھ رہی ہے۔

اس تعاون کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے بینک یا مالیاتی ادارے مشترکہ حل اپناتے ہیں، کن مصنوعات کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے اور ریگولیٹری و رسک تقاضوں کے ساتھ اس کا انضمام کس رفتار سے ہوتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت دونوں کمپنیوں کے درمیان ٹیکنالوجی شراکت داری کا اعلان ہے؛ صارفین یا ایس ایم ایز کے لیے کسی مخصوص قرض کی شرح، حد یا اجرا کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔