حیدرآباد: پاکستان کرکٹ بورڈ اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے درمیان تاریخی نیاز اسٹیڈیم کا انتظام 20 سال کے لیے پی سی بی کے حوالے کرنے کا معاہدہ طے کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مطابق اس انتظام کے باوجود اسٹیڈیم کی ملکیت بلدیاتی ادارے کے پاس ہی رہے گی۔
معاہدے کے تحت پی سی بی حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ماہانہ 10 ہزار روپے کرایہ ادا کرے گا، جبکہ اسٹیڈیم میں ہونے والے میچوں کی گیٹ ٹکٹ آمدن کا 20 فیصد کارپوریشن کو ملے گا۔ پی سی بی کو انتظامی کنٹرول کے ساتھ کمرشل اور براڈکاسٹنگ سرگرمیوں کے حقوق حاصل ہوں گے۔
حکام کے مطابق بورڈ اسٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرے گا تاکہ یہاں دوبارہ بین الاقوامی، فرسٹ کلاس اور پاکستان سپر لیگ کے میچز منعقد کیے جاسکیں۔ نیاز اسٹیڈیم پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم سہولیات اور رہائش سے متعلق مسائل کے باعث طویل عرصے تک بڑے بین الاقوامی مقابلوں سے دور رہا۔
1959 میں قائم ہونے والے اس گراؤنڈ میں پہلی بار فرسٹ کلاس کرکٹ 1962 میں کھیلی گئی۔ اس نے 1972-73 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اپنا پہلا ٹیسٹ میچ منعقد کیا اور بعد میں کرکٹ تاریخ کے ایک ہزارویں ٹیسٹ کی میزبانی بھی کی۔ 1987 کے عالمی کپ میں پاکستان اور سری لنکا کا میچ بھی اسی میدان میں کھیلا گیا تھا۔
گراؤنڈ کا آخری ون ڈے 1997-98 کے سیزن میں ہوا تھا، تاہم پی سی بی کی جانب سے 2007 میں سہولیات بہتر بنانے کے بعد جنوری 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ کھیلا گیا۔ بعد میں 2018 میں سابق انتظامی مفاہمت ختم ہونے پر مقامی ادارے نے کنٹرول واپس لے لیا تھا۔
یہ رپورٹ جیو نیوز کی 6 اکتوبر 2026 کی خبر میں حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے منسوب تفصیلات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ معاہدے کی مدت، کرایے، گیٹ آمدن اور مجوزہ اپ گریڈ سے متعلق معلومات متعلقہ بلدیاتی ادارے کے بیان کے مطابق پیش کی گئی ہیں۔
