لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے پہلے قومی اسکواڈ اور کوچنگ عملے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کر دی ہے۔ 31 اگست کے باضابطہ اعلان کے مطابق سات کھلاڑیوں کو دورے کے اسکواڈ سے ریلیز کرکے وطن واپس بھیجا گیا اور ان کی جگہ سات کھلاڑی طلب کیے گئے۔ ٹیسٹ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیز کیا گیا، جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے برمنگھم ٹیسٹ کے لیے ان کے فرائض سنبھالیں گے۔
اسکواڈ سے واپس بلائے گئے کھلاڑیوں میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں۔ پی سی بی کے اعلان نے انفرادی کھلاڑیوں کو کسی تادیبی سزا یا بدعنوانی کا مرتکب قرار نہیں دیا۔ تبدیلی کا فوری کھیلوں کا پس منظر انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے دونوں ٹیسٹ میں بھاری شکست اور سیریز کا فیصلہ ہو جانا ہے۔ امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران بائیں پنڈلی میں چوٹ بھی لگی تھی، جس کا ذکر بورڈ نے ان کی تبدیلی کے ساتھ کیا۔
نئے شامل ہونے والے کھلاڑیوں میں صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران رندھاوا اور رضاؤ اللہ شامل ہیں۔ صائم ایوب آٹھ اور عبداللہ فضل دو ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ عرفات منہاس بین الاقوامی محدود اوورز کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، لیکن انہیں اور باقی چار نئے کھلاڑیوں کو ابھی ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع نہیں ملا۔ ان کی اسکواڈ میں شمولیت حتمی پلیئنگ الیون میں انتخاب کی ضمانت نہیں؛ ٹیم مینجمنٹ وکٹ، پریکٹس اور فٹنس دیکھ کر گیارہ کھلاڑی چنے گی۔
کوچنگ تبدیلی کے تحت سفید گیند کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ ایشلے نوفکے بولنگ کے شعبے میں عمر گل کی جگہ کام کریں گے۔ سرفراز احمد کو اپریل 2026 میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ تازہ اعلان میں دونوں سبکدوش کوچز کے معاہدوں کی آئندہ حیثیت یا یہ انتظام تیسرے ٹیسٹ کے بعد بھی مستقل رہنے کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے موجودہ تصدیق شدہ دائرہ برمنگھم میچ کے لیے ذمہ داریوں کی منتقلی ہے۔
پاکستان کو ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ لارڈز میں دوسرے میچ میں 194 رنز سے شکست ہوئی۔ چاروں پاکستانی اننگز میں ٹیم 200 رنز تک نہ پہنچ سکی، اگرچہ سعود شکیل نے لارڈز میں 97 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ ان نتائج کے بعد پی سی بی نے سیریز کے درمیان روایتی طور پر غیر معمولی سمجھی جانے والی وسیع تبدیلیاں کیں۔ آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن، برمنگھم میں شروع ہونا ہے، جہاں پاکستان سیریز میں واحد کامیابی اور عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس کے لیے کھیلے گا۔
نظرثانی شدہ اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم کے ساتھ سعود شکیل، شان مسعود، ساجد خان، محمد عباس، محمد علی، عبید شاہ، اذان اویس، محمد غازی غوری اور دیگر برقرار کھلاڑی بھی موجود ہیں۔ بورڈ نے کسی نئے مستقل ٹیسٹ کپتان کا اعلان نہیں کیا، اس لیے قیادت بابر اعظم کے پاس رہے گی۔ نئی کال اپس میں دو وکٹ کیپر بیٹرز اور متعدد فاسٹ بولنگ یا آل راؤنڈ آپشنز شامل ہونے سے ٹیم مینجمنٹ کے پاس آخری میچ کے لیے مختلف امتزاج دستیاب ہوں گے۔
سابق کھلاڑیوں اور ماہرین نے فیصلے کی ٹائمنگ اور اتنی بڑی تبدیلی پر مختلف آرا دی ہیں، مگر یہ تنقید باضابطہ انتخابی فیصلے سے الگ ہے۔ کھلاڑیوں کی واپسی کو صرف ناقص کارکردگی کی سزا، کوچز کی مکمل برطرفی یا نئے کھلاڑیوں کی یقینی شمولیت کہنا پی سی بی کے جاری متن سے آگے کی تعبیر ہوگی۔ تصدیق شدہ پیش رفت سات کھلاڑیوں کی ریلیز، سات متبادل کی طلبی اور آخری ٹیسٹ سے پہلے کوچنگ ذمہ داریوں کی منتقلی ہے۔
اس فیصلے کا عملی نتیجہ ایجبسٹن میں پلیئنگ الیون اور ٹیم کی کارکردگی سے سامنے آئے گا۔ نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی پاکستان کو تازہ انتخابی راستہ دیتی ہے، لیکن انگلش حالات میں فوری کامیابی کا حتمی اندازہ پریکٹس، ویزا و سفری تکمیل، فٹنس اور میچ کے روز انتخاب کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔




