لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے آل راؤنڈر عامر جمال کو واپس شامل کر لیا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے محمد طیب عارف، علی شبیر اور ثاقب خان کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں سری لنکا کے خلاف وارم اپ میچ اور حالیہ فرسٹ کلاس کارکردگیوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق محمد طیب عارف ایک بلے باز ہیں جبکہ علی شبیر اور ثاقب خان فاسٹ بولنگ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تینوں کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سطح پر کارکردگی کی بنیاد پر موقع دیا گیا ہے۔ عامر جمال نے بھی حالیہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی آل راؤنڈ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد انہیں قومی ٹیسٹ منصوبے میں دوبارہ شامل کیا گیا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے، جبکہ دوسرا میچ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ دونوں مقابلے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل کا حصہ ہیں، اس لیے سیریز کے نتائج دونوں ٹیموں کی پوائنٹس ٹیبل میں پوزیشن کے لیے اہم ہوں گے۔

پاکستانی ٹیم نے سیریز سے قبل اسلام آباد میں تیاری کی ہے اور سری لنکن ٹیم نے بھی مقامی حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وارم اپ میچ کھیلا۔ اس میچ کو قومی سلیکٹرز کے لیے ممکنہ فاسٹ بولنگ آپشنز اور نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری جانچنے کا موقع بھی سمجھا گیا تھا۔ نئی شمولیتیں اسی عمل کے بعد حتمی اسکواڈ کی تشکیل کا حصہ ہیں۔

سلیکشن میں نوجوان اور نسبتاً نئے کھلاڑیوں کو جگہ دینے سے پاکستان کے ٹیسٹ سیٹ اپ میں ڈومیسٹک کارکردگی کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ تاہم اسکواڈ میں شامل ہونا حتمی الیون میں جگہ کی ضمانت نہیں؛ میچ کے لیے ٹیم کمبی نیشن پچ، حالات، فٹنس اور حکمت عملی کو سامنے رکھ کر طے کیا جائے گا۔ سری لنکا کے خلاف سیریز پاکستان کے لیے ہوم کنڈیشنز میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے قیمتی پوائنٹس حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔