اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یکم اکتوبر کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 89 پیسے کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 387 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔

یہ تبدیلی 30 ستمبر کو جاری کی گئی اور جمعرات یکم اکتوبر کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی حکومت نے 30 ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 49 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 73 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔ یوں مسلسل دوسرے روز دونوں اہم پیٹرولیم مصنوعات کی سرکاری قیمتوں میں کمی سامنے آئی ہے۔

حکومت نے رواں سال 17 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کے لیے یومیہ نظام متعارف کرایا تھا، جس نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی جگہ لی۔ اس تبدیلی کا پس منظر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ اور اہم بحری راستوں سے سپلائی کے بارے میں خدشات تھے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتیں، فریٹ لاگت اور سپلائی میں رکاوٹیں مقامی قیمتوں پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہیں۔

ستمبر کے دوران حکومت نے کم آمدنی والے صارفین کے لیے ایندھن ریلیف اسکیم کا بھی اعلان کیا تھا، جس کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی رکشاؤں اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک رعایت کی تجویز دی گئی۔ رپورٹ شدہ منصوبے کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 18 لاکھ صارفین کو اس دائرے میں لانے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاہم اس اسکیم کی اہلیت اور عملی فوائد متعلقہ حکومتی قواعد کے تابع ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بدستور جغرافیائی سیاسی صورتحال، امریکا اور ایران کے مذاکرات، اوپیک پلس کے فیصلوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں کی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ یکم اکتوبر کی مقامی قیمتوں میں کمی ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے طے کی گئی ہے اور یومیہ جائزہ نظام کے باعث آئندہ قیمتیں عالمی اور مقامی عوامل کے مطابق دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہیں۔