وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی نظرثانی کرتے ہوئے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپے 70 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 12 پیسے کمی کر دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کے بعد پٹرول 392 روپے 05 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 418 روپے 96 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 23 ستمبر 2026 سے کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورت حال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں رہی ہیں۔ حکومت حالیہ ہفتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ ردوبدل کر چکی ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، صنعت اور گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ موجودہ کمی اگرچہ محدود ہے، تاہم پٹرول اور ڈیزل دونوں کی نئی قیمتیں حالیہ تاریخی سطحوں کے مقابلے میں اب بھی خاصی بلند ہیں۔

پٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مال بردار گاڑیوں، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں ہے۔ اسی لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی لاگت کے ذریعے وسیع معاشی اثر ڈال سکتی ہے۔

حکومت نے اس سے قبل کم آمدنی والے موٹر سائیکل، رکشا، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے الگ ایندھن ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی تھی۔ نئی عمومی قیمتوں میں کمی اس مخصوص ریلیف نظام سے الگ اقدام ہے۔ صارفین کے لیے اصل مالی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ آئندہ دنوں میں عالمی خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس و لیوی کی پالیسی کس سمت جاتی ہے۔

قیمتوں میں تازہ کمی کے باوجود توانائی کی بلند لاگت پاکستان کی مہنگائی، کاروباری اخراجات اور نقل و حمل کے شعبے کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ آئندہ نظرثانی میں عالمی منڈی اور علاقائی سپلائی کی صورت حال فیصلہ کن عوامل میں شامل رہیں گے۔