پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے مختلف سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں زیر تعلیم 86 افغان طلبہ کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ وفاقی اور ریگولیٹری حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 12 اکتوبر مقرر کی اور اس دوران درخواست گزار طلبہ کو پاکستان سے نہ نکالنے کی ہدایت کی۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے سِلسلہ دوست سمیت 86 طلبہ کی مشترکہ درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرار سمیت متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔ عبوری حکم کے مطابق اگر تعلیم جاری رکھنے میں کوئی دوسری قانونی وجہ حائل نہ ہو تو طلبہ کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے دی جائے۔
درخواست گزاروں نے پی ایم ڈی سی کے 31 جولائی اور یکم ستمبر 2026 کے خطوط کو چیلنج کیا ہے، جن کے تحت ان سے تعلیم ترک کرکے پاکستان چھوڑنے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ وہ افغان کوٹہ نشستوں پر مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخل ہوئے، قانونی طور پر اسٹوڈنٹ ویزوں پر پاکستان آئے اور کئی تعلیمی سال مکمل کر چکے ہیں۔
طلبہ کے وکیل وسیم الدین خٹک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کے اقدامات سے ان کے موکلوں کی جاری تعلیم متاثر ہوئی اور انہیں مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے؛ عدالت نے ابھی ان دعوؤں پر حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔
بینچ نے اس درخواست کو اسی معاملے پر ایک افغان طالبہ کی پہلے سے زیر سماعت درخواست کے ساتھ یکجا کرنے کا بھی حکم دیا۔ رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بھی ستمبر میں بعض افغان میڈیکل طلبہ کو عبوری ریلیف دے چکی ہے، جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے 17 افغان ڈاکٹرز کی گرفتاری یا ملک بدری روک کر انہیں پوسٹ گریجویٹ تربیت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔
موجودہ حکم صرف عارضی عدالتی تحفظ ہے۔ پی ایم ڈی سی کے خطوط کی قانونی حیثیت، طلبہ کے تعلیمی حقوق اور امیگریشن و ویزا معاملات پر حتمی فیصلہ بعد کی سماعتوں اور فریقین کے جوابات کے بعد ہوگا۔ اس لیے عدالت کے عبوری حکم کو درخواست گزاروں کے حق میں حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
