نیویارک: بوئنگ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو نئے طیاروں کی ممکنہ خریداری کے لیے نظرثانی شدہ تجویز فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ فریقین نے پہلے دستیاب ڈیلیوری سلاٹس اور عبوری لیزنگ انتظامات تلاش کرنے پر بھی بات کی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن کے درمیان نیویارک میں ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملاقات میں پی آئی اے کے بیڑے کی جدید کاری اور پاکستان کے وسیع تر ہوا بازی شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بوئنگ کی جانب سے نئی تجویز کی حتمی تعداد، ماڈلز، قیمت یا ترسیل کا شیڈول سرکاری اعلامیے میں جاری نہیں کیا گیا، اس لیے اس مرحلے پر اسے مکمل خریداری معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گفتگو میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ مالی معاونت، انجنوں کی خریداری، اسپیئر پارٹس، مینٹیننس اور پی آئی اے کے گراؤنڈڈ بوئنگ 777 طیاروں کی بحالی کے امکانات بھی شامل تھے۔ بیڑے کی دستیابی بہتر بنانا قومی ایئرلائن کے آپریشنل شیڈول، بین الاقوامی روٹس اور لاگت کے ڈھانچے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم سرکاری بیان میں بحالی کے لیے کسی مخصوص تعداد یا مقررہ ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے ملاقات میں پی آئی اے کی نجکاری کے عمل اور بڑے ہوائی اڈوں کی مینجمنٹ آؤٹ سورس کرنے کے حکومتی منصوبے سے بھی بوئنگ کے وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ایوی ایشن سیفٹی صلاحیت، ریگولیٹری رابطوں اور پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کے سلسلے میں بوئنگ کی معاونت کو سراہا۔

حکومتی بیان میں پاکستان کی طویل مدتی ہوا بازی منڈی میں نمو کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس تناظر میں نئے جہازوں کے ممکنہ حصول کے ساتھ ساتھ فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے لیزنگ، موجودہ بیڑے کی بحالی اور پرزہ جات کی دستیابی جیسے راستے بیک وقت زیر غور ہیں۔

ملاقات کا نتیجہ فی الحال مذاکراتی اور تجویزی مرحلے کی پیش رفت ہے۔ بوئنگ کی نظرثانی شدہ تجویز پی آئی اے کو موصول ہونے کے بعد ہی اس کے مالی، تکنیکی اور آپریشنل پہلو واضح ہو سکیں گے، جبکہ کسی بھی حتمی خریداری یا لیزنگ فیصلے کے لیے متعلقہ کارپوریٹ اور حکومتی منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔