کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے بیڑے میں نئے طیارے شامل ہونے کے بعد پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات نے یہ بات ایئرلائن کے ہیڈ آفس میں مالدیپ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق مالدیپ کے وفد کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم عبداللہ کر رہے تھے۔ وفد میں پاکستان میں مالدیپ کے ہائی کمشنر، سیکنڈ سیکریٹری، ڈپٹی لیڈر اور دیگر سینئر حکام بھی شامل تھے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کے امکانات اور اس کے ممکنہ تجارتی و سیاحتی فوائد پر بات چیت ہوئی۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ جیسے ہی ایئرلائن کے بیڑے میں طیاروں کا اضافہ ہوگا، مالدیپ کے لیے براہ راست پروازیں شروع کر دی جائیں گی۔ اس بیان سے واضح ہے کہ مجوزہ روٹ کا آغاز فی الحال بیڑے کی دستیابی سے مشروط ہے۔ دستیاب رپورٹ میں پروازوں کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ، ہفتہ وار فریکوئنسی، روانگی کے پاکستانی شہر یا ٹکٹوں کی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پی آئی اے کے مطابق براہ راست پروازوں کا مقصد پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کو بہتر بنانا ہے۔ اس وقت ایئرلائن اپنے بیڑے کی توسیع اور جدید کاری پر کام کر رہی ہے اور نئے طیاروں کے حصول سے متعلق مختلف امکانات زیرِ غور ہیں۔ اسی روز پاکستان اور بوئنگ کے درمیان پی آئی اے کے بیڑے کی جدید کاری، نئے طیاروں کی فراہمی اور عبوری لیزنگ کے آپشنز پر بات چیت کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

مالدیپ ایک اہم سیاحتی منزل ہے اور براہ راست فضائی رابطہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کو آسان بنا سکتا ہے، تاہم عملی آغاز کا انحصار پی آئی اے کی فلیٹ توسیع، آپریشنل منصوبہ بندی اور متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پی آئی اے نے روٹ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اسے نئے طیاروں کی شمولیت سے مشروط کیا ہے۔