اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور افغانستان کی فضائی کمپنی کام ایئر نے انٹرلائن تعاون کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت افغان مسافروں کے لیے اسلام آباد کو ٹرانزٹ مرکز بناتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے اہم مقامات تک سفر کا نیا رابطہ قائم کیا گیا ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق اس انتظام کا مقصد افغانستان سے آنے والے مسافروں کو اسلام آباد کے راستے پی آئی اے کی آگے جانے والی پروازوں سے نسبتاً آسان اور مربوط سفر فراہم کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت مسافر اپنے مکمل سفر کے لیے ایک ہی ریزرویشن کر سکیں گے اور انہیں ہر مرحلے کے لیے الگ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کابل سے چیک اِن کیا گیا سامان اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوبارہ وصول اور چیک اِن کرائے بغیر متعلقہ پی آئی اے کی کنیکٹنگ پرواز میں منتقل کیا جا سکے گا۔ یہ سہولت ان مسافروں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو مختصر ٹرانزٹ کے دوران امیگریشن اور بیگیج کے الگ مراحل سے بچنا چاہتے ہیں۔
پی آئی اے کے مطابق اگر افغان مسافر اسلام آباد میں ایئر سائیڈ ٹرانزٹ زون کے اندر رہتے ہیں تو خلیجی منزل کی جانب سفر کے دوران انہیں پاکستان میں امیگریشن کلیئرنس کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ موجودہ تعاون کے پہلے مرحلے میں کابل-اسلام آباد-دمام روٹ شامل کیا گیا ہے، جس سے مشرقی سعودی عرب جانے والے افغان شہریوں، کارکنوں اور تارکین وطن کو ایک مربوط سفری راستہ ملے گا۔
دونوں فضائی کمپنیوں نے دوسرے مرحلے میں اس رابطے کو مزید خلیجی مقامات تک بڑھانے کا منصوبہ بھی بتایا ہے۔ زیر غور منزلوں میں مدینہ، مسقط اور العین شامل ہیں، جو مذہبی سفر، روزگار، کاروبار اور خاندانوں سے ملاقات کے لیے افغان مسافروں میں اہم مقامات سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم ان اضافی روٹس کے آغاز کی حتمی تاریخیں الگ عملی اور تجارتی انتظامات سے مشروط ہوں گی۔
انٹرلائن معاہدہ کوڈ شیئر سے مختلف ہو سکتا ہے؛ موجودہ اعلان میں بنیادی سہولت ایک مربوط بکنگ اور بیگیج ٹرانسفر کے ذریعے دونوں ایئرلائنز کے نیٹ ورک کو جوڑنا ہے۔ اس لیے اسے دونوں فضائی کمپنیوں کے مکمل آپریشنل انضمام یا مشترکہ ملکیت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر ایئرلائن اپنی متعلقہ پروازوں کی آپریٹر رہے گی اور مسافروں کو ویزا، ٹرانزٹ اور منزل کے ملک کے داخلہ قواعد پورے کرنا ہوں گے۔
پی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ شراکت افغانستان کے مسافروں کے لیے علاقائی رابطہ بہتر بنانے کے ساتھ اسلام آباد کو جنوبی اور مغربی ایشیا کے درمیان فضائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ عملی فائدہ پروازوں کے شیڈول، کنکشن کے وقفے، ٹکٹ کی دستیابی اور دوسرے مرحلے میں مزید خلیجی مقامات کے شامل ہونے پر منحصر ہوگا۔

