اردو ہیڈلائنز ڈیسک — وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کراچی میں پپری مارشلنگ یارڈ کا دورہ کرتے ہوئے کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے نے یارڈ کی آپریشنل سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ حاصل کی۔
دورے کے دوران محمد حنیف عباسی نے کنٹینر ٹرمینل کا معائنہ کیا اور حکام کو تعمیراتی کام مقررہ تاریخ تک مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ریلوے کے فریٹ سیکٹر کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ مال برداری پاکستان ریلوے کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے اور کنٹینر ٹرمینلز کی بہتر کارکردگی سے بندرگاہوں، صنعتی علاقوں اور اندرون ملک تجارتی مراکز کے درمیان سامان کی نقل و حرکت زیادہ مؤثر بنائی جا سکتی ہے۔
دی نیشن کے مطابق وزیر ریلوے نے فلیٹ کنٹینرز اور ریلوے ویگنوں کی اوورہالنگ کے کام کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے آپریشنل صلاحیت بڑھانے کی ہدایت کی تاکہ وقت اور وسائل کی بچت کی جا سکے۔ پپری یارڈ میں ویلڈنگ کے کام کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد مرمت اور تکنیکی کاموں کی رفتار اور دستیابی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو خود انحصار بنانے اور اس کے آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ فریٹ آپریشنز کی توسیع اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، کیونکہ ریلوے کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان کی ترسیل سڑک کے مقابلے میں مختلف تجارتی راستوں پر متبادل لاجسٹک سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ پپری جیسے یارڈ کی جدید کاری سے کنٹینر ہینڈلنگ اور مال گاڑیوں کی آمد و رفت میں بہتری کا امکان ہے۔
دورے کے دوران محمد حنیف عباسی نے گینگ مین کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کارکنوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ چیئرمین ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام بھی دورے کے موقع پر موجود تھے۔ اب منصوبے کی اہم اگلی کڑی 30 ستمبر کی مقررہ مدت ہے، جس تک کنٹینر ٹرمینل کا تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔




