اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ سے ملاقات میں پاکستان ریلوے کی مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن کا جلد سنگِ بنیاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مرکزی ریلوے راہداری کی جدید کاری کو قومی بنیادی ڈھانچے کی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط بہتر کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کی معاونت کے لیے ضروری ہے۔ ملاقات میں منصوبے کی عملی پیش رفت، ادارہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے اور ترقیاتی شراکت داری کو نتائج میں تبدیل کرنے پر بات ہوئی۔

یہ گفتگو اے ڈی بی کے نائب صدر کے اس عہدے میں پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ہوئی۔ دونوں فریقوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے کئی دہائیوں پر محیط تعاون کا جائزہ لیا اور نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026 تا 2030 کے تحت ترجیحی شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں بینک کے کردار کو سراہا۔

مین لائن ون پاکستان کا بنیادی ریلوے راستہ ہے جو کراچی کو پشاور سے ملاتا ہے اور لاہور، راولپنڈی سمیت متعدد بڑے شہروں سے گزرتا ہے۔ منصوبے کا مقصد پرانی پٹڑیوں اور متعلقہ نظام کی بحالی، بعض حصوں میں دوہری لائن، سگنلنگ کی بہتری اور مسافر و مال بردار ٹرینوں کی استعداد میں اضافہ ہے۔ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بھی شمار ہوتا رہا ہے، تاہم مالی اور انتظامی مسائل کے باعث اس پر عمل درآمد میں بار بار تاخیر ہوئی۔

وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ حکومت طویل مدتی اقتصادی تبدیلی کے لیے مالی، ساختی اور انتظامی اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے اور مخصوص عمل درآمدی ٹاسک فورسز کے ذریعے انتظامی رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ منصوبے کی حتمی مالی بندش، ٹھیکوں اور کام کے آغاز کی تاریخ متعلقہ اداروں کے باضابطہ فیصلوں سے مشروط رہے گی۔

اے ڈی بی کے ساتھ بات چیت میں نجی شعبے اور چھوٹے و درمیانے کاروبار کی معاونت، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ دونوں فریقوں نے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی کی ترجیحات کو قابل پیمائش ترقیاتی نتائج میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزارت ریلوے کی حالیہ بریفنگ کے مطابق حکومت کراچی تا روہڑی حصے پر کام آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اے ڈی بی سے مالی تعاون کے طریقہ کار پر بات جاری ہے۔ ایم ایل ون کے جلد آغاز سے متعلق وزیراعظم کی ہدایت سیاسی اور انتظامی ترجیح کو ظاہر کرتی ہے، لیکن تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے فنانسنگ، تکنیکی ڈیزائن، خریداری اور منظوری کے مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔